Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 535

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعے اُس کو وجود میں لائے۔ حضرت موسیٰ، خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوں نے ایک لکڑی زمین پر ڈالی اور خدا کے حکم سے وہ ایک زندہ سانپ بن گئی۔ خدا چاہتا تو اسی طرح پوری کائنات کو اچانک معجزاتی طور پر پیدا کر دیتا۔ مگر ایسا کرنے کی صورت میں انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) کا ارتقانہ ہوتا، نہ سائنس بنتی اور نہ تہذیب وجود میں آتی۔ اس لیے خالق نے کائنات کو ایک لمبے پر اسس (process) کے روپ میں پیدا کیا، تاکہ انسان اپنی سوچ کو عمل میں لائے اور ذہنی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ یہ ایک لمبا منصوبہ تھا۔ چناں چہ اس کی تکمیل میں تقریباً 15 بلین سال گزر گئے۔ قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ آسمان اور زمین اور اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو کائنات کی تخلیق کا 15 بلین سالہ منصوبہ گویا صرف انسان کے لیے تھا۔ اب انسان سے کیا مطلوب ہے، وہ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے معرفت الہی۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تخلیق میں غور وفکر کر کے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ یہی معرفت، جنت کی قیمت ہے۔ معرفت کا یہ عمل کوئی محدود عمل نہیں۔ وہ موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت کی دنیا تک جاری رہتا ہے۔ یہ ایک ابدی عمل ہے جس کا آغاز تو معلوم ہے، لیکن اس کی انتہا (end) معلوم نہیں۔ معرفت کے حصول کا عمل دنیا میں ابتدائی طور پر جاری ہوتا ہے اور آخرت میں وہ اپنی انتہائی صورت میں جاری رہے گا۔ یہی معرفت، انسان کا اصل امتیاز ہے۔ یہی معرفت، انسان کو جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔ یہی معرفت کسی انسان کے لیے اس انعام کا سبب بنے گی کہ اُس کو خدا وند ذوالجلال کے قریب مقعد صدق (سورۃ القمر، 54:55) میں جگہ ملے۔ موجودہ گلوبل وارمنگ ، خالق کی طرف سے اس بات کا الارم ہے کہ تخلیق کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا، یعنی افراد کے انتخاب کا مرحلہ۔ اب خالق کائنات غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آجاۓ گا۔ وہ کامل انصاف کے مطابق، لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان جاگے اور تیاری کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں وہ ابدی جنت میں جگہ پا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page