Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 539

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کی یاد قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ موت کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ (الترمذی، حدیث نمبر (2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، موت لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ؂ موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو مبنی بر خواہش سوچ کو ڈ ڈھانے والی ہے، اور مبنی بر حقیقت سوچ کو پیدا کرنے والی ہے: Remember death much. It demolishes desire-based thinking, and produces reality-based thinking. لذت (pleasure) کو وسیع معنی میں لیا جائے تو اس میں انسان کی تمام سرگرمیاں شامل ہو جاتی ہیں۔ ہر کام جو آدمی کرتا ہے، وہ اسی لیے کرتا ہے کہ اس میں کہیں نہ کہیں اس کو لذت مل رہی ہوتی ہے۔ معلوم مادی لذتوں (material pleasures) کے علاوہ، وہ تمام چیزیں بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو بظاہر غیر مادی نظر آتی ہیں۔ مثلاً عزت، شہرت، اقتدار، سٹیج، سماجی رتبہ، مقبولیت، عوامی استقبال، وغیرہ۔ غرض تمام تمام مادی اور غیر مادی چیزیں اس فہرست لذت میں شامل ہیں۔ اگر لذت نہ ملے تو آدمی کوئی کام نہیں کرے گا۔ اس طرح موت کا احساس آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کو اپنا ہدف (goal) نہیں بنا سکتا جو آج ملے اور کل کے دن وہ مکمل طور پر اُس سے چھن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی حیثیت کسی عورت یا مرد کے لیے سب سے بڑے معلم (teacher) کی ہے۔ موت کا تصور آدمی کے اندر انقلاب پیدا کر دینے والا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page