آخرت کا سفر
Urdu book, p. 541
By Maulana Wahiduddin Khan
کامل محرومی قرآن کی سورہ آل عمران میں موت کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) یعنی ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ آیت ہر انسان کے لیے ایک سنگین انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کسی آدمی کے لیے کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ موت کا مطلب ایک قسم کی دنیا سے نکل کر دوسری قسم کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (45:13) کا معاملہ کیا گیا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں اچانک اس کے ساتھ حرّم لكم مافي السماوات وما فى الأرض کا معاملہ پیش آجائے گا۔ موجودہ دنیا میں انسان کو بظاہر سب کچھ ملا ہوا ہے، لیکن موت کے بعد کی دنیا میں برعکس طور پر وہ پائے گا کہ وہ تمام چیزوں سے کلی طور پر محروم ہو چکا ہے۔ اس کی فیملی، اس کا سامان حیات، اس کے اعوان وانصار، غرض زمین سے آسمان تک کی ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ اسی طرح کا ایک شدید تر واقعہ ہوگا جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ یہ انسانی زندگی کا سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے جس کے بارے میں ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ سوچنا چاہہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کے مطابق سوچے، ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے، ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنی کامیابی اور نا کامی کا اصل مدار سمجھے، ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی سوچ کو لے کر رات کو سوئے اور وہ اسی سوچ کو لے کر صبح کو جاگے، ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنی زندگی کا مرکز ومحور بنا لے، ہر ایک کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو لے کر جئے اور اسی حقیقت کو لے کر اس کی موت آئے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنالے۔ جو لوگ اس حقیقت کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنالیں، وہی موجودہ دنیا میں صحیح زندگی گزاریں گے اور وہی موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader