Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 556

By Maulana Wahiduddin Khan

مستقبل سے بے خبر اس زمانے میں ہر آدمی کا کیس صرف ایک ہے— حال (present) سے باخبر اور مستقبل (future) سے بے خبر۔ انھیں دو لفظوں میں آج کے تمام انسانوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اس میں مذہبی انسان اور غیر مذہبی انسان کا کوئی فرق نہیں۔ یہ صورت حال اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک نئی صورت حال ہے۔ پچھلے زمانوں میں بھی انسان عجلت پسند ہوتا تھا، لیکن پچھلے زمانے کے انسان کی عجلت پسندی محدود درجے میں ہوا کرتی تھی۔ موجودہ زمانے میں جو نئے اسباب پیدا ہوئے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ صرف ایک چیز ہر آدمی کا نشانہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری توانائی مال کے حصول میں لگا دیتا ہے، پھر اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ وہ اپنی ساری کمائی کو چھوڑ کر ایک نامعلوم منزل کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہی نامعلوم منزل ہر انسان کا مستقبل ہے، لیکن کسی عورت یا مرد کو اس مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ انسان کو دو قسم کے مستقبل (future) کا سامنا کرنا پڑتا ہے— ایک، قریبی مستقبل۔ قریبی مستقبل کا تعلق موت سے پہلے والی زندگی سے ہے۔ اور دوسرا، بعید مستقبل۔ بعید مستقبل کا تعلق اُس زندگی سے ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ قریبی مستقبل کا سوال ایک عارضی سوال ہے، لیکن بعید مستقبل کا سوال ایک ابدی سوال۔ حدیث میں آیا ہے کہ : مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى (شرح السنة للبغوي، حدیث نمبر 4038) یعنی جو شخص دنیا سے محبت کرے گا، وہ اپنی آخرت کا نقصان کرے گا۔ اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا، وہ اپنی دنیا کا نقصان کرے گا۔ تم فنا ہونے والی چیز پر باقی رہنے والی چیز کو ترجیح دو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ترجیح (priority) کا نام ہے۔ صحیح ترجیح آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، اور غلط ترجیح ہمیشہ ناکامی کی طرف۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page