آخرت کا سفر
Urdu book, p. 583
By Maulana Wahiduddin Khan
جب پردہ ہٹے گا آج تمام حقیقتیں عالم غیب میں ہیں۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ پردہ ہٹے گا اور تمام حقیقتیں سامنے آجائیں گی۔ لیکن جب پردہ ہٹے گا تو اُس وقت عمل کا موقع ختم ہو چکا ہوگا۔ انسان کرنا چاہے گا، مگر وہ کر نہ سکے گا۔ انسان لوٹنا چاہے گا، مگر وہ لوٹ نہ سکے گا۔ اِس معاملے میں ایک سنگین حقیقت یہ ہے کہ آدم نے جنت میں ایک غلطی کی اور اُنھیں جنت سے باہر آنا پڑا۔ اِس غلطی کے باوجود آدم کو دوسرا موقع (second chance) دیا گیا تھا، یعنی بہتر عمل کر کے دوبارہ وہ جنت میں جا سکتے تھے۔ یہ خصوصی معاملہ انسان کی صرف پہلی نسل کے لیے کیا گیا تھا۔ انسان کی بعد کی نسلوں کے لیے کوئی دوسرا موقع نہیں۔ انسانیت کی بعد کی نسلوں کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ اِس دنیا میں عمل کا صرف ایک موقع پائیں۔ اگر وہ اِس پہلے موقع (first chance) کو استعمال نہ کر سکے تو اُن کو کوئی دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔ اُنھیں صرف ایک موقع ملا ہے۔ وہ یا تو اس موقع کو استعمال کریں، یا وہ اس موقع کو کھو دیں۔ اگر انھوں نے اس پہلے موقع کو استعمال کیا تو وہ بعد کی زندگی میں جنت میں جگہ پائیں گے۔ اور اگر انھوں اس پہلے موقع کو کھو دیا تو اُن کو دوبارہ کوئی اور موقع حاصل ہونے والا نہیں۔ اِس صورت حال کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عورت اور مرد جو اس دنیا میں آتے ہیں، وہ یہاں بے حد محتاط زندگی گزاریں ۔ وہ اپنے ایک لمحے کو ہزاروں سال سے زیادہ اہم سمجھیں۔ وہ آخرت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا کَنْسَرن (concern) بنائیں۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی تمام تر مستقبل کے اعتبار سے کریں، نہ کہ صرف حال کے اعتبار سے۔ وہ گہرے مطالعے کے ذریعے خالق کے تخلیقی پلان (creation plan) کو سمجھیں، اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader