ضمیر کی طاقت
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر کی طاقت دوسری عالمی جنگ سے لے کر 1991ء تک کا زمانہ امریکہ اور سوویت یونین کی عظمت کا زمانہ ہے۔ ان دونوں سلطنتوں کو سپر پاور کہا جانے لگا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہی دو ملک تھے جن کے پاس سب سے زیادہ ایٹم بم تھے۔ ایٹم بموں کی ملکیت نے انہیں سپر پاور بنا دیا۔ مگر تحقیقات نے بتایا کہ ایٹم بم اپنی ساری فوجی طاقت کے باوجود قابل استعمال ہی نہیں ہیں۔ قدیم زمانہ کے ہتھیار (تلوار وغیرہ) کی تخریب کاری محدود ہوتی تھی۔ مگر ایٹم بم کی تخریب کاری لامحدود ہے۔ یہ بم اگر استعمال کیے جائیں تو ان سے عالمی تباہی پیدا ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ مفتوح کے ساتھ خود فاتح بھی تباہ ہو چکا ہوگا۔ اس طرح کے مختلف حقائق نے ایٹم بم کے استعمال کو ناممکن بنا دیا۔ ایٹم بم اور دوسرے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں امریکہ اور سوویت یونین دونوں کی اقتصادیات کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔ امریکہ کی اقتصادیات کھوکھلی ہوگئی۔ مثال کے طور پر امریکہ کے اوپر اس وقت چالیس بلین ڈالر سے زیادہ جاپان کا قرض ہے۔ سوویت یونین کی اقتصادیات مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس کا عظیم ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ 1992 ء سے جدید تاریخ کا نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کا نتیجہ امریکی میگزین ٹائم (10 فروری 1992ء) کے الفاظ میں یہ ہے کہ امریکہ میں اب عام طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ سرد جنگ ختم ہوگئی اور جاپان جیت گیا۔ امریکہ کی عالمی فوجی سیادت کی معقولیت باقی نہیں رہی۔ امریکہ کو دنیا کی پیچیدہ اقتصادیات میں اب نئی جگہ تلاش کرنا ہوگا۔ امریکہ اگرچہ اب بھی بہت طاقتور اقتصادیات کا مالک ہے مگر وہ محسوس کرنے لگا ہے جیسے کہ اب وہ ایک تخفیف شدہ چیز ہے: This is becoming a familiar line: "The cold war is over , and Japan won." Much of the rationale for America's global military role is gone ,and the U.S. must now find a new place in a complex world economy...America, still the most powerful economy, nonetheless feels itself to be somehow the diminished thing. (p.9) جنگ کے حالات میں وہ قوم دنیا کی قائد نظر آتی ہے جس کے پاس تخریب کی طاقت ہو۔ مگر امن کے حالات میں وہ قوم قیادت کرتی ہے جو دنیا کو امن کا تحفہ دے سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader