Urdu book · کتابِ زندگی

ضمیر کی طاقت

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کا پھل بدرالدین احمد (پیدائش 1938) مراد آباد کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے مراد آباد کے فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں کئی سبق آموز واقعات بتائے۔ یہ فساد 13 اگست 1980ء کو شروع ہوا تھا اور رک رک کر اگلے مہینہ تک جاری رہا۔ فساد کے دوران کرفیو لگا ہوا تھا۔ ہر طرف ابتر حالات تھے۔ لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئی تھیں۔ بدر الدین صاحب نے بتایا کہ اس زمانہ میں ہم لوگوں کو دودھ نہیں ملتا تھا۔ اس لیے ہم لوگ بغیر دودھ کی چائے گرم پانی کر کے پی لیا کرتے تھے۔ پولیس کے ایک افسر مسٹر شرمانے ایک دکان سے پیتل کے کچھ کھلونے (شو پیس) خریدے۔ اس کو ان کھلونوں پر پالیش کروانا تھا۔ وہ پالیش کے لیے بدر الدین احمد صاحب کے یہاں آید۔ انہوں نے کھلونوں پر پالیش کر دی۔ مگر اس کا کوئی پیسہ نہیں لیا۔ اس اخلاق کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس افسر جب روزانہ راؤنڈ پر نکلتا تو بدر الدین صاحب کے یہاں اپنی گاڑی روک کر اترتا اور حال پوچھتا کہ کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔ ہماری کوئی ضرورت ہو تو بتائیے ۔ اس طرح وہ روزانہ کم از کم ایک بار آتار ہا۔ ایک روز مسٹر شرما آئے تو بدر الدین صاحب اپنے چھوٹے بچے (نجم الدین احمد) کو گود میں لیے ہوئے تھے۔ مسٹر شرمانے پوچھا کہ یہ بچہ تو دودھ پیتا ہو گا ۔ بدر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں۔ مسٹر شرمانے کہا کہ پھر آپ کو دودھ ملنے میں تو کوئی پریشانی نہیں۔ بدر الدین صاحب نے کہا کہ پریشانی تو ہے، اس لیے کہ کرفیو لگا ہوا ہے۔ اس کے بعد مسٹر شرما چلے گئے۔ اگلے دن آئے تو ان کے ساتھ گلیکسو ملک کا دوڈ بہ بھی تھا۔ انہوں نے یہ دونوں ڈبہ بدرالدین صاحب کو دیتے ہوئے کہا" " یہ آپ کے بچہ کے لیے میری طرف سے تحفہ ہے۔ اخلاق کے اندر تعالیٰ نے سب سے زیادہ تسخیری طاقت رکھی ہے۔ یہ طاقت اتنی زیادہ ہے کہ وہ بدنام پولیس کو بھی مسخر کر لیتی ہے۔ اخلاق ایک ایسا خاموش ہتھیار ہے جو ہر آدمی پر کارگر ثابت ہوتا ہے حتی کہ کٹر دشمن کے اوپر بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page