Urdu book · کتابِ زندگی

سوچ کا فرق

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچ کا فرق فریڈرک لیسنگ برج (Frederick Langbridge) انگریزی کا ایک شاعر ہے۔ وہ 1849ء میں پیدا ہوا۔ 1923ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک شعر ہے کہ رات کے وقت دو آدمی جنگلہ کے باہر دیکھتے ہیں۔ ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ستارہ: Two men look out through the same bars one sees the mud, and one the stars. یہی بات ایک فارسی شاعر نے زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سننے کا فرق ہے۔ ایک آواز آتی ہے۔ تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دروازہ کھلنے کی آواز ہے: تفاوت است میان شنیدن من و تو تو غلق باب و منم فتح باب می شنوم درخت میں کانٹے کے ساتھ پھول بھی ہوتا ہے۔ یہی حال انسانی سماج کا ہے۔ سماجی حالات بظاہر خواہ کتنے غیر موافق ہوں، ہمیشہ اس کے اندر موافق پہلو بھی ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے۔ ایک شخص جو چیزوں کو صرف ظاہری طور پر دیکھنے کی نگاہ رکھتا ہو، وہ سطحی چیزوں کو دیکھے گا، اور زیادہ گہرے پہلوؤں کو دیکھنے میں ناکام رہے گا۔ مگر جو شخص گہری نظر رکھتا ہو وہ زیادہ دور تک دیکھے گا اور ناموافق پہلو کے ساتھ موافق پہلو کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس دنیا میں کیچڑ بھی ہے اور یہاں ستارے بھی ہیں۔ یہ دیکھنے کی بات ہے کہ کون شخص کس چیز کو دیکھتا ہے اور کون شخص کس چیز کو۔ ایک ہی آواز ہے، مگر نادان آدمی اس کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دروازہ بند ہو گیا اور دانش مند آدمی سمجھتا ہے کہ دروازہ اس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تمام مسائل ہمیشہ ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور ذہن کے اندر ہی ان کو ختم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ آدمی کے اندر صحیح سوچ کا مادہ پیدا ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عقل کا امتحان ہے، جو شخص اپنی عقل کو استعمال کرے گا وہ اپنے لیے راستہ پالے گا، اور جو شخص عقل کو استعمال نہیں کرے گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page