Urdu book · کتابِ زندگی

مقصدیت

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصدیت دہلی میں ایک مسلم نوجوان تھا۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی، تاہم وہ تندرست اور باصلاحیت تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کو محسوس ہوا کہ ماحول میں اس کے لیے کوئی باعزت کام یہیں ہے۔ آخر کار وہ دادا گیری کی راہ پر لگ گیا۔ جھگڑا فساد اور لوٹ مار اس کا پیشہ بن گیا_ لوگ اس کو دادا کہنے لگے۔ چند سالوں کے بعد ایک شخص کو اس سے ہمدردی ہوئی۔ اس نے اپنے پاس سے کچھ رقم بطور قرض دے کر اس کو دکانداری کرا دی_ جب وہ دکان میں بیٹھا اور اس کو نفع ملنے لگا تو اس کی تمام دلچسپیاں دکان کی طرف مائل ہوگئیں_ اس نے دادا گیری چھوڑ دی اور پوری طرح دکان کے کام میں مصروف ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا معاملہ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مقصدیت کھو دی ہے۔ جدید دنیا میں وہ ایک بے مقصد گروہ بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس آج منفی باتوں کے سوا اور کچھ نہیں_ وہ شکایت اور احتجاج کا مجسمہ بن گئے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہر نشست مجلس شکایت ہوتی ہے اور ان کا ہر جلسہ یوم احتجاج_ اس صورت حال کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک با مقصد گروہ بنایا جائے اور یہ مقصد صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ دعوت ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر داعیانہ مقصد پیدا کر دیا جائے تو ان کی تمام کمزوریاں اپنے آپ دور ہو جائیں گی۔ وہ اپنے کرنے کا ایک اعلیٰ اور مثبت کام پالیں گے۔ ان کی بے مقصدیت اپنے آپ مقصدیت میں تبدیل ہو جائے گی_ اس کے بعد ان کے اندر کردار بھی آئے گا اور صبر و برداشت بھی_ وہ دوسروں سے نفرت کرنے کے بجائے محبت کرنے لگیں گے۔ اس کے بعد ان کو وہ نظر حاصل ہو جائے گی جو تاریکی میں روشنی کا پہلو دیکھ لیتی ہے۔ جو کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لیتی ہے۔ مقصدیت ہر قسم کی اصلاح کی جڑ ہے۔ بے مقصد آدمی کا دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ آدمی کو با مقصد بنا دیجیے اور اس کے بعد اپنے آپ اس کی ہر چیز درست ہو جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page