مٹھاس کا اضافہ
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ کچھ پانا چاہتے ہیں تو دنیا میں ”عطیہ کارڈ“ لے کر نکلیے۔ اگر آپ ”مطالبہ کارڈ“ لے کر نکلے تو یہاں آپ کو کچھ ملنے والا نہیں۔ 24 اگست 1988 کو مسٹر پی ڈی ملہوترا (پیدائش 1935) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ساہتیہ اکیڈمی (نئی دہلی) میں تقریباً 30 سال سے پبلی کیشنز مینیجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز مجھے دفتر میں دیر ہو گئی۔ گھر جانے کے لیے باہر نکلا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میں اپنے اسکوٹر پر چلتے ہوئے ایک سڑک پر پہنچا تو وہاں پولیس کے آدمی نے مجھے روک دیا۔ اس نے کہا کہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھاؤ۔ مسٹر ملہوترا نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ڈرائیونگ کارڈ کے ساتھ ایک اور کارڈ نکل آیا اس نے اپنے ہاتھ میں دونوں کارڈ لیتے ہوئے پوچھا کہ یہ دوسرا کارڈ کیا ہے۔ یہ دراصل آنکھ کے عطیہ کا کارڈ (Eye (Donor Card تھا_ اس کارڈ پر آدمی کے دستخط کے ساتھ اس کی طرف سے یہ الفاظ درج ہوتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھیں قوم کو عطیہ دی ہیں۔ براہ کرم میری موت پر سب سے قریب کے آنکھ کے ہسپتال کو فوراً اطلاع کر دیں۔ اور میری خواہش کو پورا کرنے میں ان کی مدد کریں۔ شکریہ: I have gifted eyes to the nation. Kindly inform the nearest Eye Bank immediately on my demise and help them to fulfil my desire. Thanks. پولیس کا آدمی پہلے بہت رُکھائی کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مگر آنکھ کے عطیہ کا کارڈ دیکھتے ہی اس کا لہجہ بدل گیا۔ اس نے مزید جانچ کیے بغیر کہا کہ ”جائیے، جائیے۔“ آنکھ کا عطیہ موجودہ زمانہ میں ایک شریفانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ ٹی وی پر اس کی اپیل ان جذباتی لفظوں میں آتی ہے: ”دنیا میں ایک ہی چیز ہے جو صرف آپ کسی کو دے سکتے ہیں۔“ پولیس والے نے جب مسٹر ملہوترا کے پاس آنکھ کے عطیہ کا کارڈ دیکھا تو وہ سمجھا کہ یہ ایک شریف اور ہمدرد انسان ہیں۔ آنکھ کے عطیہ کا کارڈ مسٹر ملہوترا کے لیے اس بات کی پہچان بن گیا کہ وہ دوسروں کو دینے والے آدمی ہیں۔ اس چیز نے پولیس کے دل کو ان کے حق میں نرم کر دیا۔ اس دنیا میں دینے والے کو دیا جاتا ہے جو دوسروں کو دے وہ دوسروں سے پاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس وقت بھی پانے کا مستحق بن جاتا ہے جب کہ اس نے ابھی عملاً دیا نہ ہو، اس نے ابھی صرف دینے کا ارادہ کیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader