Urdu book · کتابِ زندگی

بیس سال بعد

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

بیس سال بعد ’’کولمبس نے امریکہ کو در یافت کیا‘‘۔ چھ لفظ کے اس جملہ کو آج ایک شخص چھ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنی زبان سے ادا کر سکتا ہے۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کولمبس (Christopher Columbus) کو 20 پر مشقت سال صرف کرنے پڑے۔ کرسٹوفر کولمبس 1451 میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ 1506 میں اسپین میں اس کی وفات ہوئی۔ امریکہ کی در یافت حقیقۃً یورپ کے لیے مشرق کا سمندری راستہ در یافت کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی حاصل (by-product) تھی۔ کولمبس نے 1484 میں پرتگال کے شاہ جان دوم (John II) سے درخواست کی کہ وہ اس بحری سفر کے لیے اس کی مدد کرے۔ مگر شاہ پرتگال نے اس کو بے فائدہ سمجھ کر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کولمبس نے کیسٹیلی (Castile) کی ملکہ از بیلا (Isabella) سے مدد کی درخواست کی یہاں بھی اس کو مثبت جواب نہیں ملا۔ تاہم کولمبس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آٹھ سال کے بعد ملکہ نے اس کو کشتیاں اور ضروری سامان مہیا کر دیا۔ کولمبس نے تین کشتیوں کے ساتھ اپنا پہلا سفر 13 اگست 1492 کو شروع کیا۔ تاہم اس سفر میں وہ امریکہ کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ہر قسم کی مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود کولمبس اپنی کوشش میں لگا رہا۔ آخر کار چوتھے سفر کے بعد 1504 میں وہ ’’نئی دنیا‘‘ کو در یافت کرنے میں کامیاب ہو گیا (691/10 EB)۔ کولمبس سے پہلے دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ کولمبس کی در یافت نے (نئی اور پرانی) دونوں دنیاؤں کو ملا کر ایک کر دیا۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم در یافت تھی۔ مگر یہ در یافت صرف اس وقت ممکن ہوسکی جب کہ کولمبس اور اس کے ساتھی بے حوصلہ ہوئے بغیر 20 سال تک اس جان جوکھم منصوبہ کی تکمیل میں لگے رہے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں ہر کامیابی ’’20 سالہ‘‘ محنت مانگتی ہے۔ اس کے بغیر یہاں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page