Urdu book · کتابِ زندگی

وقت کی اہمیت

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وقت کو ضائع ہونے سے بچائیے۔ ہر بڑی کامیابی چھوٹی کامیابی کے مجموعہ کا نام ہے۔ چھوٹی کامیابی پر راضی ہو جائیے۔ اس کے بعد آپ بڑی کامیابی بھی ضرور حاصل کر لیں گے۔ مولوی لطف اللہ ایک معمولی ٹیُوٹر تھے۔ وہ 1802ء میں مالوہ کے قدیم شہر دھار انگر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کسی انگریزی درس گاہ میں ایک دن بھی نہیں پڑھا۔ مگر ان کی خود نوشت انگریزی سوانح عمری 1857ء میں لندن سے چھپی۔ لندن کے پبلشر سمتھ ایلڈراینڈ کمپنی نے اس کا نام یہ رکھا: Autobiography of Lutfullah: A Mohammedan Gentleman اس کتاب کے ساتھ ایک انگریز مسٹرایسٹ وِیک کا دیباچہ شامل ہے۔ انہوں نے دیباچہ میں مصنف کی صحیح انگریزی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ ایک ہندوستانی نے دیسی زبان میں اتنی ضخیم کتاب کس طرح لکھی۔ مولوی لطف اللہ نے یہ صلاحیت کیسے پیدا کی کہ وہ انگریزی میں ایک ایسی کتاب لکھیں جو لندن سے چھپے اور انگریز ادیب اس کی زبان کی تعریف کرے، اس کا راز اردو کے اس مشہور مقولہ میں چھپا ہوا ہے تھوڑا تھوڑا بہت ہو جاتا ہے۔ مولوی لطف اللہ نے انگریزی زبان صرف اپنی محنت سے سیکھی۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز ملازموں کو ہندوستانی، فارسی اور مرہٹی زبانیں سکھاتے تھے۔ ان کے انگریز شاگردوں کی تعداد سو سے اوپر تھی۔ انگریزوں سے تعلق کے نتیجہ میں ان کے اندر انگریزی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے ذاتی مطالعہ سے انگریزی زبان پڑھنا شروع کیا۔ اور آٹھ سال کی لگا تار محنت کے نتیجہ میں اس پر پوری طرح قدرت حاصل کرلی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس آٹھ سال کی مدت میں”کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری جب کہ سونے سے پہلے میں نے انگریزی کے دس لفظ یاد نہ کیے ہوں اور ڈاکٹر گل کرسٹ کی قواعد کی کتابوں کے چند صفحے تو جہ سے پڑھ کر ذہن میں محفوظ نہ کیے ہوں“۔ دس لفظ” بظاہر بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دس لفظ روزانہ کی رفتار کو جب آٹھ سال تک پھیلا دیا جائے تو وہ ایک شخص کو غیر زبان کا ایسا ادیب بنا دیتے ہیں کہ اہل زبان بھی اس کی زبان دانی کا اعتراف کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page