خون کے بجائے پانی
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
صاحب دوڑ کر گئے اور ایک گلاس مزید پانی لے آئے۔ یہاں تک کہ اس کا پاؤں پوری طرح صاف ہو گیا۔ یہ واقعہ ریلوے اسٹیشن کے باہر پیش آیا۔ گفتگو کے دوران افضل صاحب نے اس آدمی سے کہا: بھائی صاحب، آپ تو "میم" ہیں، اگر آپ "کاف" ہوتے تب بھی مجھے یہی کرنا تھا۔ کیوں کہ اسلام نے ہم کو ایسا ہی حکم دیا ہے۔ یہ سن کر وہ آدمی افضل صاحب سے لپٹ گیا۔ اس نے کہا کہ بھائی صاحب، میں کاف ہی ہوں ۔ اور آپ جیسا مسلمان مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار ملا ہے۔ اور اگر دوسرے مسلمان بھی آپ جیسے ہو جائیں تو سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ اب وہ آدمی بالکل بدل گیا۔ پہلے اس کے اندر غصہ اور انتقام بھڑک اٹھا تھا۔ اب وہ شرمندہ ہو کر افضل صاحب سے کہنے لگا کہ بھائی مجھ کو معاف کرنا۔ آپ کو میں نے بڑی تکلیف دی۔ میری وجہ سے آپ کو پانی لانا پڑا۔ آپ کا تھری ویلر بھی چھوٹ گیا۔ افضل صاحب نے کہا کہ مجھ کو شرمندہ نہ کیجیے۔ اس معاملہ میں اصل غلطی تو میری تھی، اور میں جو پانی لایا، وہ میرا فرض تھا جو میں نے کیا۔ واقعہ کے شروع میں جو آدمی دوسرے کو غلط بتا رہا تھا۔ واقعہ کے آخر میں وہ خود اپنی غلطی مان کر شرمندہ ہو گیا اور معافی مانگنے لگا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت بمبئی کے علاقہ جوگیشوری میں زبردست فرقہ وارانہ کشیدگی موجود تھی ۔ یہ مقام کرلا سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ان حالات میں اگر افضل صاحب اشتعال کے جواب میں اشتعال کا انداز اختیار کرتے تو وہی ہوتا جو اس طرح کے مواقع پر دوسری بہت سی جگہوں میں ہو چکا ہے۔ یعنی فرقہ وارانہ فساد اور جان و مال کی تباہی۔ اس کے بعد شاید ایسا ہوتا کہ افضل صاحب خدانخواستہ گھر پہنچنے کے بجائے ہسپتال لے جاتے جاتے اور علاقہ میں ہندو مسلم فساد برپا ہو کر سیکڑوں خاندانوں کو برباد کر دیتا۔ افضل صاحب نے یہ واقعہ بتانے کے بعد کہا: اس وقت مجھے الرسالہ کی بات یاد آئی۔ یہ الرسالہ کے دیے ہوئے ذہن کا نتیجہ تھا کہ میں اشتعال کے موقع پر مشتعل ہونے سے بچ گیا، اور نتیجہ اس کے برے انجام سے بھی۔ میرے گلاس بھر پانی نے سینکڑوں لوگوں کو اس بھیانک انجام سے بچا لیا کہ ان کا خون سڑکوں پر بہایا جائے۔ ایک قسم کے الفاظ بول کر آپ آدمی کے ذہن کو غصہ کا تنور بنا سکتے ہیں۔ اور دوسرے قسم کے الفاظ بول کر آدمی کے بھڑک کتے ہوئے غصہ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ الفاظ آگ کا کام بھی کرتے ہیں اور برف کا کام بھی۔ یہ بولنے والے کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس چیز کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader