آسان حل
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تدبیر کا تعلق کسی معاملہ سے نہیں۔ جس معاملہ میں بھی خاموشی انتظار کی یہ تدبیر اختیار کی جائے گی، آخر کار وہ کارگر ثابت ہوگی۔ کچھ عیسائیوں نے دہلی کے پلوں اور دیواروں پر کالے رنگ سے انگریزی میں یہ فقرہ لکھ دیا کہ مسیح جلد آنے والے ہیں (Jesus is coming soon) اس کے بعد کچھ ہندو نوجوانوں میں جوابی جوش پیدا ہوا۔ انہوں نے مذکورہ فقرہ کے آگے ہر جگہ یہ الفاظ لکھ دیئے کہ ہندو بننے کے (To (become Hindu جملہ کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ پڑھے لکھے ہندوؤں کا فعل نہیں تھا۔ کیوں کہ انگریزی کے اعتبار سے صحیح جملہ یوں ہوگا: To become a Hindu اسی قسم کا واقعہ اگر کسی شہر میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا تو فوراً کچھ سطحی قسم کے لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے کہ یہ توہین رسول ہے۔ یہ مسلمانوں کی دل آزاری ہے، یہ ہماری ملی غیرت کو چیلنج ہے۔ اس کے بعد کچھ مسلم نوجوان اشتعل ہو کر جوابی کارروائی کرتے اور پھر شہر کے اندر ہندو مسلم فساد ہو جاتا۔ اب نام نہاد مسلم لیڈر بیانات دے کر انتظامیہ کا نکما پن ثابت کرتے۔ ریلیف فنڈ کھول کر کچھ لوگ ملی خدمات کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتے۔ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں گرما گرم سرخیاں چھپتیں جس کے نتیجہ میں ان کی اشاعت بڑھ جاتی۔ اور جہاں تک مسلم عوام کا تعلق ہے، ان کے حصہ میں اس کے سوا کچھ اور نہ آتا کہ ان کی بربادی میں مزید اضافہ ہو جاتے۔ مگر عیسائیوں نے اس "اشتعال انگیز کارروائی" کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ واقعہ محض ایک بے واقعہ (non-event) بن کر رہ گیا۔ 19 فروری 1990 کی صبح کو میں اوبرائے ہوٹل (نئی دہلی) کے پاس فلائی اوور پر کھڑا ہوا اس کی دیواروں پر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پل کے دونوں طرف کی کشادہ سڑک پر سواریاں تیزی سے گزر رہی تھیں ۔ کسی کو بھی یہ فرصت نہ تھی کہ وہ ٹھہر کر پل کے اوپر لکھے ہوئے ان الفاظ کو پڑھے۔ یہ الفاظ پل کی دیواروں پر ناقابل التفات نشان کے طور پر صرف اس بات کے منتظر تھے کہ بارش کا پانی اور ہواؤں کا جھونکا ان کو مٹادے، اس سے پہلے کہ کوئی ان کو پڑھے یا ان سے کوئی اثر قبول کرے۔ جو "اشتعال انگریزی" اتنی بے حقیقت ہو، اس پر جو لوگ مشتعل ہو کر فساد کے اسباب پیدا کرتے ہیں وہ بلاشبہ تمام نادانوں سے زیادہ نادان ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader