Urdu book · کتابِ زندگی

ناکامی میں کامیابی

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آپ دوسرے میدان میں وہ سب کچھ پالیں جس کی امید آپ پہلے میدان میں کیے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر سالم علی (1987-1896) کو علم طیور (Ornithology) میں غیر معمولی مقام ملا۔ ہندوستان نے ان کو پدما بھوشن کا خطاب دیا۔ برطانیہ نے ان کو گولڈ میڈل سے نوازا۔ ہالینڈ نے ان کو گولڈن آرک عطا کیا۔ عالمی ادارہ وائلڈ لائف نے ان کو انعام کے طور پر 50 ہزار ڈالر دیے۔ ہندوستان کی تین یونیورسٹیوں نے اعزازی طور پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے، وغیرہ۔ ڈاکٹر سالم علی کو یہ غیر معمولی کامیابی ایک غیر معمولی ناکامی کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ وہ بمبئی کے ایک گنجان علاقہ کھیت واڑی میں پیدا ہوئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں روزگار کی ضرورت ہوئی۔ مگر جب وہ روزگار کی تلاش میں نکلے تو ان کے الفاظ میں ”ہر ادارے اور ہر دفتر میں ان کے لیے جگہ نہیں (no vacancy) کا بورڈ لگا ہوا تھا۔“ اس ناکامی نے ان کے لیے نئی کامیابی کے راستے کھول دیے ۔ ایک روز انہوں نے ایک چھوٹی چڑیا پکڑی ۔ اس کو دیکھا تو اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت نظر آئی۔ اس کی گردن پیلے رنگ کی تھی۔ انہوں نے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ انہوں نے علم طیور کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ ان کی دلچسپی بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک دستی دوربین حاصل کی۔ اب ان کا کام یہ ہو گیا کہ ادھر ادھر جا کر چڑیوں کا مشاہدہ کریں اور ان کے حالات اپنی ڈائری میں لکھیں ۔ آخر کار انہوں نے علم طیور میں اتنی مہارت پیدا کی کہ خود اس فن کو نئی جہتوں اور نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ ان کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ ایک کتاب میں انہوں نے برصغیر ہند کی 1200 چڑیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب طیور ہند (The Book of (Indian Birds ہے جو گیارہ بار چھپ چکی ہے ، اور عالمی سطح پر پڑھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سالم علی کو زمینی ادارہ میں جگہ نہیں ملی تھی، انہوں نے آسمانی مشاہدہ میں اپنے لیے زیادہ بہتر کام تلاش کر لیا ۔ ان کو ملکی ملازمت میں نہیں لیا گیا تھا، مگر اپنی اعلیٰ کارکردگی کے ذریعہ وہ عالمی اعزاز کے مستحق قرار پائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page