تعمیر شعور
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر شعور دوسری جنگ عظیم تک امریکہ ساری دنیا میں موٹر کار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ہر آدمی کے ذہن پر رولس رائٹس کار کی عظمت چھائی ہوئی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی ووکس ویگن کا زمانہ آیا۔ 1970ء تک 140 ملکوں میں 16 ملین سے زیادہ ووکس ویگن گاڑیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ مگر اب جاپانی کاروں کا زمانہ ہے۔ آج ٹویوٹا (نہ کہ جنرل موٹرز) کاروں کی دنیا کا بادشاہ ہے۔ امریکہ کی سڑکوں پر آج جو کاریں دوڑتی ہیں ان میں 35 فیصد کاریں جاپان کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ آج دنیا بھر میں استعمال ہونے والا الیکٹرانک سامان 80 فیصد جاپان کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ امریکہ کا آپالو دوم جب چاند پر گیا ۔ تو اس کے اندر رکھنے کے لیے ایک بہت چھوٹے ٹیپ ریکارڈر (کیسٹ ریکارڈر) کی ضرورت تھی ۔ اتنا چھوٹا اور بالکل صحیح کام کرنے والا ریکارڈر صرف جاپان فراہم کر سکتا تھا۔ چنانچہ آپالو دوم کے ساتھ جاپانی ساخت کا ریکارڈر رکھ کر اسے چاند پر روانہ کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم تک جاپان کا یہ حال تھا کہ میڈ ان جاپان (Made in Japan) کا لفظ جس سامان پر لکھا ہوا ہو، اس کے متعلق پیشگی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ سستا اور ناقابلِ اعتماد ہو گا۔ جاپانی سامان کی تصویر اتنی گھٹیا تھی کہ مغربی ملکوں کے تاجر جاپانی ساخت کا سامان اپنی دکان پر رکھنا اپنی ہتک سمجھتے تھے۔ پھر صرف 40 سال کے اندر جاپان نے کس طرح ایسی انقلابی ترقی حاصل کرلی۔ ایک امریکی عالم ولیم او یوچی (William O'uchi) کے الفاظ میں اس کا راز اپنے کارکنوں کے اندر داعیہ پیدا کرنا (motivation of the employees) ہے۔ جاپانیوں نے اپنے یہاں ابتدائی تعلیم کا انتہائی اعلیٰ معیار قائم کیا۔ انہوں نے ابتدائی معلموں کو اعلیٰ تنخواہ اور پروفیسروں والا اعزاز دینا شروع کیا اور اس طرح اعلیٰ ترین صلاحیت کے اساتذہ کو اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر لگا دیا۔ انہوں نے اپنے افراد میں نہایت گہرائی کے ساتھ یہ شعور پیدا کیا کہ صنعت میں اصل چیز معیار (Quality) ہے۔ جدید جاپان میں ہر جگہ کوالٹی کنٹرول سرکل قائم ہیں۔ 1980ء تک ایک لاکھ کوالٹی کنٹرول رجسٹرڈ سرکل ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ایک ملین غیر رجسٹرڈ کوالٹی سرکل بھی جاپان میں موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader