Urdu book · کتابِ زندگی

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کے ہاتھ میں آجائے وہ آخر کار انتہائی سرے تک پہنچ کر رہے گا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک 1799ء میں شروع ہوئی جب کہ سلطان ٹیپوانگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد انگریزوں سے لڑنا، انگریز شخصیتوں پر بم مارنا، ان پر حملہ کرنے کے لیے بیرونی حکومتوں کو ابھارنا، جیسے ہنگامے سو سال سے زیادہ مدت تک جاری رہے۔ اس قسم کی تدبیریں اپنی نوعیت میں پرشور تھیں۔ چنانچہ ان کا نام آتے ہی انگریز فوراً چوکنّا ہو جاتا تھا اور ان کو پوری طاقت سے کچل دیتا تھا۔ اس کے بعد گاندھی میدان سیاست میں آئے تو اچانک صورت حال بدل گئی۔ پچھلے لوگ ہنسا کے ذریعہ آزادی کا مطالبہ کرتے تھے، گاندھی نے اس کے برعکس آہنسا کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انہوں نے آزادی کی تحریک کو ایسی بنیاد پر چلانے کا اعلان کیا جو انگریزوں کو نا قابل لحاظ دکھائی دے۔ گاندھی کے اسی طریقہ کا ایک جز وہ ہے جس کو ڈانڈی مارچ کہا جاتا ہے۔ گجرات کے ساحل پر قدیم زمانہ سے نمک بنایا جاتا تھا۔ انگریزی حکومت نے گجرات میں نمک بنانے کی صنعت کو سرکاری قبضہ میں لے لیا۔ گاندھی اس قانون کی پرامن خلاف ورزی کے لیے سا برمتی سے پیدل روانہ ہوئے اور 24 دن میں 240 میل کا سفر طے کر کے ڈانڈی کے ساحل پر پہنچے اور نمک کا ایک ٹکڑا اپنے ہاتھ میں لے کر سرکاری قانون کی خلاف ورزی کی۔ گاندھی نے جب اپنے منصوبہ کا اعلان کیا تو انگریز عہدیداروں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر ایک انگریز افسر نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانوی شہنشاہیت کو زیر کر سکیں: Let him make his salt. Mr Gandhi will have to find great deal more than a pinch of salt to bring down the British Empire. موجودہ دنیا میں کامیاب اقدام وہ ہے، جو دیکھنے میں نا قابل لحاظ دکھائی دے۔ مگر حقیقۃ وہ ناقابل تسخیر ہو۔ جو حریف کو بظاہر وہ "چٹکی بھر نمک‘‘ نظر آئے، مگر انجام کو پہنچے تو وہ ’’پہاڑ بھر نمک‘‘ بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page