اتحاد کی طاقت
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
تھیلاتے ہوئے اس کو اپنے پاس بلایا اور 1601 میں اپنی موت سے پہلے اپنا پورا تحریری ذخیرہ بلا معاوضہ کیپلر کے حوالہ کر دیا۔ جب ٹائیکو براہی کے مشاہدات کا سارا سرمایہ کیپلر کے پاس آگیا تو کیپلر کی کمی کی تلافی ہو گئی۔ اب اس نے اپنے دماغ کی تمام ریاضیاتی قوت کو ان مشاہدات کے ساتھ مربوط کرنے میں لگا دیا۔ اس کا نتیجہ ان تین کلیات کی صورت میں نکلا جو کیپلر کے سہ گانہ قوانین حرکت (Kepler's laws of planetary motion) کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان قوانین کو استعمال کرتے ہوئے بعد کو سر آئزک نیوٹن (1727-1643) نے قوت کشش (gravitational force) کے بارے میں اپنی دریافت مکمل کی۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی بڑی کامیابی کا راز ہے۔ ہر آدمی کی اپنی محدودیت ہوتی ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی شخص تنہا کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ کوئی کام اس وقت انجام پاتا ہے جب کہ کئی لوگ اپنی صلاحیتوں اور اپنی کوششوں کو ایک رخ پر لگانے کے لیے راضی ہو جائیں ۔ متحدہ کوشش کے بغیر اس دنیا میں کسی بڑے واقعے کو ظہور میں لانا ممکن نہیں۔ مگر متحدہ کوشش کی ایک قیمت ہے۔ اور وہ قیمت ہے اختلاف کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کی بات پر ایک دوسرے سے جڑنا۔ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو جانا۔ انسان کے اندر اختلاف کا پایا جانا لازمی ہے۔ اس دنیا میں اخلاص کے باوجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اختلاف سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں عملی بات صرف یہ ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا حوصلہ پیدا کریں ۔ اجتماعی مفاد کے لیے انفرادی پہلوؤں کو بھلا دیں۔ بڑی چیز کی خاطر چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کر دیں۔ مقصد کے تقاضے کے لیے اپنی ذات کے تقاضوں کو دفن کر دیں۔ اسی کا نام بلند حوصلگی اور اعلیٰ ظرفی ہے۔ اور اس بلند حوصلگی اور اعلیٰ ظرفی کے بغیر اس دنیا میں کسی بڑے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader