Urdu book · کتابِ زندگی

سبق آموز

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جاپانی ایتھر اپولوجسٹ ہیں، انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ایمرسن کے قدیم عقیدہ کا کیا ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر تم ایک اچھا چوہے دان بناؤ گے تو دنیا خود چل کر تمہارے دروازہ پر پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ چیز تھی جس نے امریکہ کو اس اقتصادی اور صنعتی طاقت تک پہنچایا جیسا کہ وہ آج ہے۔ مگر ہم میں سے اکثر لوگ، صحیح یا غلط طور پر، یہ خیال رکھتے ہیں کہ امریکہ اب ایسے چوہے دان نہیں دے رہا ہے جو جاپانی چوہے دان سے اچھا ہو۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب امریکہ میں کارکردگی کا معیار گھٹ گیا ہے: Whatever happened to the good old Emersonian credo that if you build a better mousetrap, the world will beat a path to your door. That is what made America what it is today, economically and industrially powerful. But many of us, rightly or wrongly, now feel that the U.S. is no longer turning out mousetraps which are better than ours. (p. 14) ایک اور جاپانی مبصر یوشیو ساکوراپچی (Yoshio Sakurauchi) نے امریکہ کی کمی کے بارے میں عام جاپانی تاثر کو بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے تجارتی مسئلہ کی جڑ امریکی کارکن کی کارکردگی کا ناقص معیار ہے: The root of America's trade problem lies in the inferior quality of American labor. (p. 14) دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جاپان کے خلاف جو ظالمانہ سلوک کیا تھا، اگر جاپان یہ کرتا کہ وہ اپنے زبان و قلم کو امریکہ کے ظلم اور اس کی سازش کے خلاف پروپیگنڈے میں لگا دیتا تو جاپان کچھ بھی حاصل نہ کرتا۔ بلکہ جنگ کے بعد جو کچھ اس کے پاس بچا تھا اس کو بھی وہ لفظی احتجاج کی مہم میں کھو دیتا۔ جاپان نے امریکہ کے سلوک پر ”صبر“ کر لیا۔ اس نے امریکہ کے خلاف شور و غل کرنے کے بجائے خود تعمیری کو اپنا مشن بنایا۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ صرف چالیس سال کی مدت میں تاریخ بدل گئی۔ جو پیچھے تھا وہ آگے ہو گیا، اور جس نے آگے کی سیٹ پر قبضہ کر رکھا تھا اس کو مجبور ہو کر پچھلی سیٹ پر واپس جانا پڑا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page