Urdu book · کتابِ زندگی

برداشت کا مسئلہ

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ کوچ کے مسافر پختہ ذہن کے لوگ ہوتے تو نہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا اور نہ سینکڑوں مسافروں کو یہ غیر ضروری مصیبت اٹھانی پڑتی۔ ذہن کی پختگی کیا ہے۔ ذہن کی پختگی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ آدمی ایسی حقیقت کو قبول کر لے جس کو وہ بدل نہیں سکتا۔ نا پختہ ذہن کے لوگ ایسی صورت حال پیش آنے پر چیخ اٹھتے ہیں، اور پختہ ذہن کے لوگوں کو ایسی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس سے موافقت کر لیتے ہیں، تاکہ ان کا سفر حیات کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ مذکورہ 70 مسافروں کے واقعہ پر غور کیجیے تو معلوم ہوا کہ وہ ذہنی پختگی کے اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اگر وہ لوگ ایسا کرتے کہ وقتی طور پر ائیر کنڈیشنر کی محرومی پر صبر کر لیں تو ان کا مسئلہ صرف ایک مسئلہ رہتا ہے۔ یعنی وقتی طور پر تھوڑی سی گرمی کو برداشت کر لینا۔ مگر جب انہوں نے صبر نہیں کیا تو ان کا مسئلہ مزید بڑھ کر کئی مسئلہ بن گیا۔ موجودہ دنیا میں سب کچھ کسی کی مرضی کے مطابق ہونا ممکن نہیں۔ یہاں زندگی نقصان پر راضی ہونے کا نام ہے۔ جو آدمی ایک نقصان پر راضی نہ ہو اس کو آخر کار کئی نقصان پر راضی ہونا پڑے گا۔ نقصان کے وقت ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرنا، وہی چیز ہے، جس کو مذہب کی زبان میں صبر کہا گیا ہے۔ صبر کامیاب زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص کامیابی کے راستے پر قائم نہیں رہ سکتا۔ نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر، لوگوں کی ایذاؤں کے مقابلے میں صبر، جان و مال کے نقصان کے مقابلے میں صبر، ناخوش گوار تجربات کے مقابلے میں صبر، محرومی کے واقعات پر صبر، مصیبتوں کے مقابلے میں صبر، وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں مثبت نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا صرف اُس انسان کے لیے ممکن ہے جو صبر کے ساتھ دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہو۔ صبر ایک انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ناخوش گوار واقعات سے غیر متاثرہ کر زندگی گزارے، وہ منفی تجربات کے باوجود پازیٹو سوچ پر قائم رہے۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page