Urdu book · کتابِ زندگی

زندگی کا اصول

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کا اصول ایک شخص موٹر کار کس لیے خریدتا ہے۔ تیز رفتار سفر کے لیے۔ کار کا مقصد چلنے کی رفتار کو دوڑنے کی رفتار بنانا ہے۔ مگر وہی کار ہے جو دوڑنے کے ساتھ رکنا بھی جانتی ہو۔ ایک کار بظاہر نہایت عمدہ ہو۔ مگر اس کے اندر رو کنے کا نظام (بر یک) نہ ہو تو کوئی بھی شخص ایسی کار کی خریداری قبول نہیں کرسکتا۔ سڑک کے سفر کا جو اصول ہے، وہی زندگی کے سفر کا اصول بھی ہے۔ زندگی کا وسیع تر سفر کامیابی کے ساتھ وہی لوگ طے کرسکتے ہیں جو چلنے کے ساتھ رکھنا بھی جانتے ہوں۔ جو لوگ صرف چلنے اور اقدام کرنے کی اصطلاحوں میں سوچنا جانیں، رکنے اور ٹھہر نے کا لفظ جن کی لغت میں موجود نہ ہو، وہ گویا ایسی موٹر کار کی مانند ہیں جس کے اندر بر یک نہیں۔ اور جس کار کے اندر بر یک کا نظام نہ ہو وہ ہمیشہ کھڈ میں جا کر گرتی ہے، ایسی کار کے لیے منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔ اگر آپ کا یہ مزاج ہو کہ کوئی شخص آپ کے خلاف کوئی بات بول دے تو آپ اس سے لڑ جائیں۔ کوئی شخص آپ کی امیدوں کو پورا نہ کر رہا ہو تو آپ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس سے مقابلہ آرائی شروع کردیں تو گویا آپ بغیر بریک کی کار ہیں۔ آپ کا حال یہ ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے وہاں بولتے ہیں، جہاں اپنے قدموں کو روک لینا چاہیے وہاں آپ تیز رفتاری کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے ہیں ایسے آدمی کا انجام اس دنیا میں صرف بربادی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنی طاقت کو منفی کارروائیوں میں برباد ہونے سے بچائے۔ جو راہ کے کانٹوں سے الجھے بغیر اپنا سفر جاری رکھے۔ شریعت کی زبان میں اسی کو اعراض کہا جاتا ہے۔ اور اعراض بلاشبہ زندگی کا ایک ناگزیر اصول ہے۔ جس شخص کا ایک سو چا سمجھا مقصد ہو، جو اپنے طے کیے ہوئے منصوبہ کی تکمیل میں لگا ہوا ہو، وہ لازماً اعراض کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ہمیشہ اپنے مقصد کو اپنے سامنے رکھے گا۔ البتہ جن لوگوں کے سامنے کوئی متعین مقصد نہ ہو وہ اعراض کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، وہ معمولی معمولی باتوں پر دوسروں سے لڑ جائیں گے۔ وہ سمجھیں گے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، حالانکہ وہ وہ صرف اپنی قوتوں کو ضائع کر رہے ہوں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page