طاقت کا خزانہ
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
طاقت کا خزانہ انسانی دماغ (mind) ایک ناقابلِ یقین نظام ہے۔ اس کی جسامت ایک سنگترہ سے بھی کم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک سیکنڈ میں 800 یادداشتیں ریکارڈ کر لیتا ہے۔ وہ اوسطاً 75 سال تک برابر یہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آ جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی دماغ کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی انسانی دماغ میں جو بات بھی پڑتی ہے، وہ پوری طرح اس کو محفوظ کر لیتا ہے، اور پھر کبھی اس کے کسی جزء کو فراموش نہیں کرتا۔ خواہ ہم ان تمام معلومات کو شعوری طور پر یاد میں نہ لاسکیں۔ تاہم ہمارے دماغ کے مستقل فائل میں ہر چیز ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اگر ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جس کے امکانات انسانی دماغ کے برابر ہوں تو اس کا انفراسٹرکچر اتنا زیادہ ہوگا کہ وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عمارت کو گھیر لے گا۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ نیویارک میں ہے اس کی 102 منزلیں ہیں اور اس کی اونچی 1250 فٹ ہے۔ ایسا سپر کمپیوٹر اگر بنایا جا سکے تو اس کو چلانے کے لیے ایک ارب واٹ بجلی کی توانائی درکار ہوگی۔ اس کی لاگت اتنی زیادہ ہوگی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے: The brain is a fabulous mechanism. About the size of half a grapefruit, it can record 800 memories a second for the average 75 years many of us live, without exhausting itself. The human brain retains everything it takes in and never forgets anything. Even though we don't recall all the information received, everything is on permanent file in our brain. If a computer to match the brain's potential was built, it would occupy space comparable to the size of the Empire State Building(1,250 feet tall) and need

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader