طاقت کا خزانہ
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں جدید تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اگرچہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس بات کی کافی کوشش کی کہ وہ ایسی مشینیں بنائیں جو انسانی دماغ جیسا کام کرسکیں۔ مگر انتہائی طاقتور قسم کا سپر کمپیوٹر بھی ابھی تک انسانی دماغ سے بہت پیچھے ہے : انسانی دماغ طاقت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ یہ خزانہ ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔ وہ کسب اور کوشش کے بغیر ہر آدمی کو اپنے آپ ملا ہوا ہے۔ دماغ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مفلس نہیں، کوئی بھی شخص دوسروں سے کمزور نہیں، خواہ ظاہری سامان کے اعتبار سے وہ کتنا ہی زیادہ مفلس اور کمزور دکھائی دیتا ہو۔ دماغ کی صورت میں سب سے زیادہ طاقت ور مشین آپ کے پاس موجود ہے، ایسی مشین جس کے مثل کوئی دوسری چیز ساری معلوم کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ اس طاقت ور مشینی خزانہ کو استعمال کیجیے، اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو بروئے کار لانے کی کوشش کیجیے۔ اور پھر کبھی آپ کو نا کامی کی شکایت نہ ہوگی۔ دنیا میں کسی بھی شخص نے جو بھی ترقی یا کامیابی حاصل کی ہے، وہ اسی دماغ کی طاقت کو استعمال کر کے حاصل کی ہے۔ فطرت کی دی ہوئی یہی عظیم طاقت آپ کے پاس بھی موجود ہے۔ امکانی طور پر آپ بھی عین اسی ترقی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جہاں کوئی بھی شخص کبھی پہنچا ہے۔ پھر مایوسی کیوں اور شکایت کس لیے۔ اپنے امکان کو واقع بنائیے۔ کامیابی کی ہر بلندی اس انتظار میں ہے کہ آپ وہاں پہنچیں اور اپنے آپ کو اس کے اوپر کھڑا کردیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader