اس میں سبق ہے
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر کار ہندو نو جوان چپ ہو گیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نو جوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھڑک بازار سے (اس وقت مولانا اسی مقام پر رہتے تھے) نوجوان نے کہا کہ کھڑک بازار میں ایک مولانا اکرام الدین ہیں، کیا آپ ان کو جانتے ہیں۔ وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میری ماں ان کے پاس گئی تھی اور ان سے تعویذ لائی تھی۔ اس تعویذ سے بہت فائدہ ہوا۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی تو وہ سفر میں ہیں۔ کل تک وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ اس وقت ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ہندو نو جوان نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ وہ سفر میں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس مسافر سے تم بات کر رہے ہو وہی مولانا اکرام الدین ہیں۔ یہ سنتے ہی ہندو نو جوان نے مولانا اکرام الدین کے پاؤں پکڑ لیے۔ اس نے کہا کہ مجھے چھما کر دیے ۔ مجھ سے بہت بھاری غلطی ہو گئی۔ اس غلطی پر جی چاہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو مار لوں۔ وہ نوجوان اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اصرار کر کے مولانا اکرام الدین صاحب کو اپنی جگہ بٹھا دیا۔ اس کے بعد وہ آخری اسٹیشن تک برابر کھڑا رہا۔ اگلے اسٹیشن پر جب دونوں اترے تو نو جوان نے اصرار کر کے مولانا کو ناشتہ کرایا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے اس طرح کے اور کئی واقعات سنائے اور کہا کہ ہندوؤں میں ہم نے جو اخلاق پایا وہ اخلاق ہم نے موجودہ مسلمانوں میں نہیں پایا۔ اسی طرح انہوں نے بتایا کہ 1982ء میں میں تراویح سنانے کے لیے بنگور گیا ہوا تھا۔ ایک روز میں بنگور سے کورم ہلی بذریعہ اسکوٹر جا رہا تھا۔ راستہ میں میرے اسکوٹر کا پٹرول ختم ہو گیا۔ کچھ دور تک میں اسکوٹر کو دھکیل کر لے گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ناریل کا ایک باغ دکھائی دیا۔ اس کے اندر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ میں باغ کے اندر گیا۔ وہاں ایک ہندو بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آدمی سے کہا کہ ایک کرسی لے آؤ۔ مجھ کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا کہ حضرت کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ یہاں سے آٹھ کلومیٹر دور جانے پر مجھے پٹرول مل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader