Urdu book · کتابِ زندگی

تعمیر کی طاقت

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

نے مزید ایمبولینس گاڑیاں خریدیں ۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس 350 گاڑیوں کا دستہ ہے جو سب کی سب سائرن ، وائرلیس ، گیس سلنڈر وغیرہ سے لیس ہیں ۔ ان کے علاوہ انہوں نے دو ہیلی کاپٹر خریدے ہیں تا کہ دور تک کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر سکیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ہسپتال ، زچہ گھر ، یتیم خانے اور مختلف قسم کے رفاہی مراکز قائم کر رکھے ہیں ، اب انہوں نے گیارہ ایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے ۔ یہاں وہ اپنے تمام شعبے قائم کریں گے ۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر ہیلی کاپٹر کو ٹھہرانے اور اتارنے کا میدان بھی بنایا جائے گا ۔ 30 سال پہلے عبد الستار ایدھی کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ماں بیمار ہوئی تو نہ ان کے پاس دوا لانے کے پیسے تھے اور نہ ماں کو ہسپتال لے جانے کا साधन ۔ ان کی ماں نہایت تکلیف کی حالت میں مرگئی ۔ مگر ماں کی موت نے ان کو ایک نئی زندگی دے دی ۔ اس سے ان کو سخت جھٹکا لگا ۔ انہوں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے غریب ہوں گے جو تکلیف میں تڑپتے ہوں گے ، مگر کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خدمت خلق کا ایک ادارہ قائم کریں گے ۔ 30 سال پہلے یہ ادارہ انہوں نے نہایت معمولی حالت سے شروع کیا تھا ۔ آج وہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپیہ ہے ۔ جس شخص کا حال یہ تھا کہ مرض الموت میں مبتلا اپنی ماں کی دوا خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے ، وہ آج اپنے مرکز میں 7500 آدمیوں کے لیے کھانا اور کپڑا فراہم کر رہا ہے ۔ عبد الستار ایدھی کو عالمی انعام (Magsaysay Award) دیا گیا ہے ۔ امریکہ کے کثیر الاشاعت ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ (جون 1989ء) نے ان کے بارہ میں ایک تعریفی مضمون شائع کیا تھا جس کا خلاصہ الرسالہ (فروری 1990ء) میں آ چکا ہے ۔ نئی دہلی کے انڈیا ٹو ڈے (30 جون 1990ء) نے سات صفحہ کی ایک با تصویر رپورٹ شائع کی ہے ۔ ان کا عنوان یہ ہے ۔ پاکستان کا فادر ٹریسا : Pakistan`s Father Teresa

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page