بچت سے اضافہ
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
بچت سے اضافہ کچھ مادے ایسے ہیں جو بجلی کی متحرک کرنٹ کو اپنے اندر سے گزرنے دیتے ہیں۔ ان کو کنڈکٹر (Conductor) کہا جاتا ہے۔ تانبہ، لوہا اور المونیم وغیرہ اسی قسم کے کنڈکٹر ہیں۔ چنانچہ بجلی کو پاور ہاؤس سے دوسرے مقامات پر بھیجنے کے لیے انہیں مادوں کے تار بنائے جاتے ہیں۔ ان تاروں پر بجلی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جاتی ہے۔ اس روانگی کے دوران یہ مادے گرم ہو کر بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں تقریباً پچاس فیصد بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔ یعنی پاور ہاؤس میں جتنی بجلی پیدا کی جاتی ہے، عملاً اس کا صرف آدھا حصہ استعمال ہوتا ہے۔ بقیہ آدھا حصہ غیر استعمال شدہ طور پر ضائع ہو جاتا ہے۔ ڈچ سائنس دان اچ کے اونز (Heike Kamerlingh Onnes, 1853-1926) نے 1911ء میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ بعض مادے ایسے ہیں جن میں یہ قدرتی صفت ہے کہ ایک خاص درجہ حرارت پر پہنچنے کے بعد وہ مطلق صفر (Absolute Zero) کی سطح پر آ جاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی قوت مدافعت مکمل طور پر ختم کر کے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ بجلی کی روانی میں رکاوٹ ڈالے بغیر اس کی ترسیل کر سکیں۔ ایسے مادہ کو سپر کنڈکٹر اور اس طریقہ کو سپر کنڈکٹیوٹی (Superconductivity) کا نام دیا گیا اور اس پر ریسرچ شروع کر دی گئی۔ اب تقریباً 80 برس بعد یہ تحقیق اپنی آخری منزل پر پہنچ گئی ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ سپر کنڈکٹر مادے کو استعمال کر کے بجلی کی ترسیل کی جائے اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ بجلی کی صد فیصد مقدار استعمال ہو سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں میں مزید اضافہ کیے بغیر قابلِ استعمال بجلی کی مقدار دگنی ہو جائے گی۔ اس نئی دریافت نے اس قدیم مقولہ کو واقع بنا دیا ہے کہ: Electricity saved is electricity generated یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچت بھی ایک قسم کی آمدنی ہے۔ آپ اگر اپنی آمدنی میں اضافہ نہ کر سکتے ہوں تو اپنے خرچ میں کمی کیجیے۔ اپنے خرچ میں کمی کر کے آپ اپنی آمدنی کو بڑھا سکتے ہیں۔ آمدنی بڑھانے کا یہ ایک ایسا نسخہ ہے جو ہر آدمی کے اختیار میں ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader