Urdu book · کتابِ زندگی

حکمت کی بات

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمت کی بات مشہور صنعت کار جی ڈی برلا آزادی کی تحریک میں سرگرمی کے ساتھ شریک تھے۔ انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کو مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم دی۔ وہ مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ 1947ء سے پہلے برلا ہاؤس (دہلی) کانگریسی لیڈروں کا مستقل مرکز بنا ہوا تھا۔ 15 اگست 1947ء کو ساڑھے دس بجے وائسرائے کی تقریر آنے والی تھی جس میں انہیں آزادی ہند کے بارے میں اپنا آخری سرکاری اعلان نشر کرنا تھا۔ تمام بڑے بڑے کانگریسی لیڈر برلا ہاؤس میں بیٹھے ہوئے گھڑی کی سوئی دیکھ رہے تھے کہ کب ساڑھے دس بجے اور وہ ریڈیو پر وائسرائے کی تقریر سنیں۔ جی ڈی برلا بھی ان لیڈروں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ برلا کی عادت تھی کہ وہ ٹھیک آٹھ بجے سونے کے کمرے میں چلے جاتے تھے۔ جیسے ہی ان کی گھڑی نے آٹھ بجائے وہ مجلس سے اٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: اب تو میرا سونے کا وقت ہو گیا۔ وائسرائے کی تقریر میں کل صبح اخبار میں پڑھ لوں گا۔ یہی کامیاب زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ "مسئلہ" اور "مقصد" میں فرق کرے۔ وہ مسئلہ کی رعایت صرف اس وقت تک کرے جب تک اس کا مقصد سے ٹکراؤ نہ پیش آ یا ہو ۔ جب مقصد اور مسئلہ میں ٹکراؤ ہو جائے تو وہ مسئلہ کو حالات کے حوالہ کر کے مقصد کی طرف چلا جائے ۔ بیشتر لوگ مسائل میں پریشان رہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ ذہنی سکون کھودیتے ہیں۔ اعلیٰ مشاغل میں وہ اپنا وقت نہیں دے پاتے ۔ یہاں تک کہ ایک روز افسردگی کے ساتھ مر جاتے ہیں۔ مگر یہ عقل مندی کی بات نہیں۔ مسائل کو حل کرنے میں اپنی قوت صرف کیجیے، مگر اس کی ایک حد رکھیے۔ حد آتے ہی مسائل کو چھوڑ کر مقصد کو پکڑ لیجیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے حل کے سلسلہ میں زیادہ فیصلہ کن چیز حالات ہیں۔ آدمی خواہ کتنا ہی زیادہ پریشان ہو، آخرکار وہی ہوتا ہے جو حالات کا تقاضا ہو۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ ایک حد تک مسائل پر ذہن لگانے کے بعد ان کو حالات کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ گھڑی میں "آٹھ" بجنے تک مسئلہ پر توجہ دیجیے۔ آٹھ بجنے کے بعد مسئلہ کو حالات کے حوالہ کر کے سونے کے لیے چلے جائیے۔ اس کے بعد اس پر راضی ہو جایئے کہ حالات کا جو فیصلہ ہو، وہ مجھے منظور ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page