Urdu book · کتابِ زندگی

مشکل میں آسانی

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

مشکل میں آسانی

روایتی طرز کے کولھو میں جب گنا ڈالا جاتا ہے تو اس میں دباؤ کم ہوتا ہے اور اس کے بیلین کے درمیان سے گنا صرف ایک بار گزارا جاتا ہے۔ چنانچہ گنے کا رس تقریباً 25 فیصد نکلے بغیر اس کے اندر رہ جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والے کرشر (Crusher) میں نسبتاً زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور گنے کو بیلین کے درمیان سے دو بار گزارا جاتا ہے۔ تاہم یہاں بھی تقریباً 15 فیصد رس اس سے نکل نہیں پاتا۔ بڑی بڑی ملوں میں بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور گنے کو چار بار مشینی بیلین کے درمیان سے گزارا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گنے کا تقریباً تمام رس اس سے باہر آ جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ”دباؤ“ کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جو چیزیں پیدا کی ہیں، ان کے اندر تخلیقی طور پر بے حساب امکانات رکھ دیے ہیں۔ مگر کسی چیز کے اندر چھپا ہوا امکان صرف اس وقت نکل کر باہر آتا ہے جب کہ اس چیز پر دباؤ پڑے۔ دباؤ جتنا زیادہ شدید ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے اندرونی امکانات باہر آئیں گے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر بے حساب امکانات موجود ہیں۔ ہر انسان امکانات کا ایک لامحدود خزانہ ہے معمول کے حالات میں یہ امکانات انسان کے اندر چھپے ہوئے پڑے رہتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب کہ انسان دباؤ کا شکار ہو۔ جب اس کی شخصیت کو نچوڑنے والے عمل سے گزارا جائے۔ تاریخ میں جن لوگوں نے بھی کوئی بڑی ترقی کی ہے وہ وہی لوگ تھے جو اپنے ماحول میں دباؤ کے حالات سے دوچار ہوئے۔ جنہوں نے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسراً کے تخلیقی راز کو جانا جنہوں نے زندگی کے میدان میں اس حوصلہ کے ساتھ قدم رکھا کہ وہ عُسر کی زمین سے یُسر کی فصل اگائیں گے۔ انسانی نگاہ مشکل کو مشکل کے روپ میں دیکھتی ہے۔ ربانی نگاہ وہ ہے جو مشکل کو آسانی کے روپ میں دیکھنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page