موجودہ سماج
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
موجوده سماج انڈین ایکسپریس (24 نومبر 1988) میرے سامنے ہے۔ اس کے صفحہ اول پر بتایا گیا ہے کہ دہلی کی ایک 26 سالہ عورت پروئیش کو اس کی ساس بر سرارانی نے مار ڈالا۔ اس نے اپنی بہو کے اوپر مٹی کا تیل انڈیل دیا ، اور پھر آگ لگا دی۔ صرف اس لیے کہ پروئیش نے سسرال والوں کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا تھا کہ وہ اپنے میکے سے دس ہزار روپیہ لا کر انہیں دے۔ اگلے دن دوبارہ انڈین ایکسپریس (25 نومبر 1988) کے صفحہ اول پر یہ سرخی ہے : Another Dowry Victim خبر کے مطابق دہلی کی 26 سالہ عورت اروین رانا کو اس کے سسرال والوں نے مار ڈالا۔ دوبارہ وجہ یہی تھی کہ سسرال والوں کے جہیز کے مطالبہ کو اس نے پورا نہیں کیا تھا۔ اس قسم کی خبریں ہر روز اخبارات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پولیس ان اموات کو جہیز کی موت (dowry death) کہتی ہے۔ جہیز کی خاطر موت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بنا پر راجیہ سبھا میں اس کی بابت سوال اٹھایا گیا۔ وزارت داخلہ کے منسٹر آف اسٹیٹ مسٹر پی چدمبرم نے ہندوستان ٹائمز (25 نومبر 1988) کے مطابق جو اعداد و شمار بتائے ، وہ یہ ہیں : 1985 999 (موتییں) 1986 1319 (موتییں) 1987 1786 (موتییں) ہندوستان کا موجودہ سماج جس وحشت و بربریت کی سطح کو پہنچ چکا ہے ، یہ اس کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ آج ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں ، وہ خونخوار بھیڑیوں کا سماج ہے ، نہ کہ شریف انسانوں کا سماج۔ ایسی حالت میں فرقہ وارانہ فسادات پر چیخ پکار کرنا یا ان کے خلاف مذمت کے بیانات دینا ، ایک ایسا فعل ہے جو احمقانہ رد عمل کے سوا کسی اور خانہ میں جانے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کسی سمجھدار آدمی کے لیے بچاؤ کا راستہ صرف ایک ہے۔ وہ انسان نما حیوانوں کے ساتھ اعراض کرے۔ ان کی طرف سے اشتعال انگیزی کا واقعہ پیش آئے تب بھی وہ اشتعل نہ ہو۔ کوئی آدمی حیوان سے نہیں لڑتا۔ حیوان سے اعراض کیا جاتا ہے ، نہ کہ جنگ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader