تخریب نہیں
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
تخریب نہیں کورین ائیر کی فلائٹ 858 نومبر 1987 ء کی 29 تاریخ کو بغداد سے اڑی۔ اسے سی اول پہنچنا تھا۔ وہ بحرِ انڈمان کے اوپر 37 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہی تھی کہ اچانک دھماکا ہوا اور اس کے 115 مسافر فضا ہی میں ہلاک ہو گئے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ پائلٹ ائیر پورٹ کو سگنل (Distress signal) بھی نہ بھیج سکا۔ جب کہ اس کے لیے صرف ایک سیکنڈ کا وقت درکار تھا۔ جہاز کی تباہی کا یہ منصوبہ شمالی کوریا کی طرف سے بنایا گیا تھا۔ منصوبہ کے تحت شمالی کوریا کی ایک 24 سالہ عورت کوتر بیت دے کر جہاز کا سفر کرایا گیا۔ وہ بغداد سے اس جہاز پر سوار ہوئی اور جہاز کے اوپر کے خانہ میں ٹرانسٹر بم رکھ کر ابوظہبی میں اتر گئی۔ یہ ایک طاقتور ٹائم بم تھا۔ وہ اپنے وقت پر پھٹا اور پورا جہاز اچانک تباہ ہو گیا۔ اس منصوبہ کا مقصد اولمپک 1988ء کو ناکام بنانا تھا جو جنوبی کوریا کے دارالسلطنت سی اول میں ہورہا تھا۔ شمالی کوریا کی اشتراکی حکومت کو جنوبی کوریا کا یہ اعزاز پسند نہ تھا۔ شمالی کوریا کے اسٹالینی ڈکٹیٹر کم ال سنگ (Kim II Sung) نے اپنی خفیہ ایجنسی کو حکم دیا کہ جنوبی کوریا کے جہاز کو بم سے اڑا دو تا کہ جنوبی کوریا کا سفر لوگوں کو غیر محفوظ معلوم ہونے لگے اور لوگ اولمپک میں شرکت کا ارادہ چھوڑ دیں۔ اس تخریبی مقصد کے تحت مذکورہ جہاز کو برباد کیا گیا۔ جنوبی کوریا کے جہاز کو برباد کرنا نہایت بے ہودہ جرم تھا۔ مگر دہشت گردی کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ کوئی بھی ملک اس سے ڈر کر اولمپک کی شرکت سے نہیں رکا۔ اس کے برعکس، 161 ملکوں نے اعلان کیا کہ وہ سب اس میں شریک ہوں گے۔ یہ تعداد کسی بھی پچھلے اولمپک سے زیادہ ہے: The destruction of KAL 858 was a monstrous crime, but as an act of terrorism it proved to be monumental failure. No country was frightened away from the Olympics. On the country, 161 countries have announced they will attend, more than at any previous Games. (Reader's Digest, August 1988) کسی کے خلاف تخریب کاری خود اپنے خلاف تخریب کاری ہے۔ ایسا آدمی صرف اپنا نقصان کرتا ہے، وہ دوسرے شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader