Urdu book · کتابِ زندگی

عبرت ناک

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

عبرت ناک ٹائمز آف انڈیا (21 اپریل 1988ء) میں ایک خبر اورنگ آباد کے میونسپل کارپوریشن کے الیکشن (اپریل 1988ء) سے متعلق ہے جہاں شیو سینا نے 60 سیٹوں میں سے 27 سیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ شیو سینا تین سال پہلے ختم شدہ طاقت (spent force) کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ نیز یہ کہ اس سے پہلے وہ زیادہ تر بمبئی کی ایک جماعت سمجھی جاتی تھی۔ مگر اورنگ آباد کے الیکشن میں کامیابی نے ظاہر کیا ہے کہ وہ نہ صرف از سر نو زندہ ہو گئی ہے بلکہ اس نے پورے مہاراشٹر میں اپنے اثرات پھیلا لیے ہیں۔ شیو سینا نے یہ کامیابی ہندو اکتا کا نعرہ لگا کر حاصل کی ہے۔ اس کا ایک خاص نعرہ یہ تھا" گورو سے کہو، ہم ہندو ہیں": Be proud to say You are a hindu. اورنگ آباد میں 25 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ بعض حلقہ انتخاب ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹ اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر شیو سینا نے ایک خالص مسلم حلقہ میں بھی کامیابی حاصل کرلی۔ یہاں تین مسلم امیدوار تھے جس کی وجہ سے ان کے ووٹ بٹ گئے : The Sena was also reported to have won a Muslim-dominated constituency because there were three Muslim candidates and (Muslim) votes were divided. یہ واقعہ مسلمانوں کی دہری نادانی کو بتا رہا ہے۔ یہ در حقیقت مسلمان ہیں جنہوں نے شیو سینا کے خلاف شور و غل کر کے اس کو زندہ کیا۔ مسلمان اگر اس کے معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرتے تو اب تک وہ اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مزید یہ کہ جس جماعت کو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بتاتے ہیں، اس کے خلاف بھی وہ متحد نہیں ہو سکتے۔ حتیٰ کہ اپنے عدم اتحاد کی وجہ سے بالواسطہ طور پر اس کی کامیابی کا سبب بن جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو، ان کے بارے میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ سچا عمل تو درکنار، جھوٹا عمل کرنے کی صلاحیت بھی ان کے اندر باقی نہیں۔ بولنا تو درکنار، نہ بولنے کا فن بھی انہیں نہیں آتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page