دیباچہ
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم دیباچه انسان کے سوا جو کائنات ہے وہ نہایت محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ وہ ہمیشہ اسی ضابطہ کی پیروی کرتی ہے۔ ہر چیز اس ضابطہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کے لیے بھی قدرت کا ایک مقرر کیا ہوا ضابطہ ہے۔ جو آدمی اس ضابطہ کی پیروی کرتا ہے وہ اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ جو آدمی اس مقرر ضابطہ سے انحراف کرتا ہے وہ یہاں ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس ضابطہ کی بنیادی دفعہ یہ ہے کہ انسانی دنیا کے نظام کو مقابلہ اور مسابقت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا لحاظ کرنا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے آدمیوں سے مقابلہ کر کے اپنا ضروری حق وصول کرنا ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کسی شخص یا قوم کو کچھ ملتا ہے تو وہ اپنی صلاحیت کی بنا پر ملتا ہے اور اگر کسی سے کچھ چھنتا ہے تو اپنی کوتاہی کی بنا پر چھنتا ہے۔ اس لیے یہاں زندگی کی دوڑ میں اگر کوئی طبقہ محروم رہ جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے خود اپنے اندر اس سبب کو تلاش کرے جس نے اسے محرومی میں ڈال دیا۔ زیر نظر مجموعہ مختلف پہلوؤں سے اسی اصول فطرت کی تشریح ہے۔ اس کی ترتیب سادہ طور پر کمیت کے قاعدہ پر کی گئی ہے۔ پہلے ایک صفحہ والے مضامین، اس کے بعد دو صفحہ والے مضامین۔ اس کے بعد کئی صفحہ والے مضامین۔ اسی نسبت سے اس کو حسب ذیل تین ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ صفحات حکمت، اوراق حکمت، مضامین حکمت۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader