ایک خودکشی
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خودکشی مسز پدما ڈیسائی مشہور صنعت کار راجہ رام کر لو سکرم کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی سابق وزیر اعظم ہند مرار جی ڈیسائی کے صاحبزادے مسٹر کانتی لال ڈیسائی سے ہوئی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی معاشی حیثیت کیا تھی۔ مگر 16 نومبر 1984 ء کو انہوں نے اپنے پانچویں منزل کے فلیٹ سے کود کر خود کشی کر لی۔ اس وقت ان کی عمر 51 سال تھی۔ نیچے گرنے کے فوراً بعد وہ ہسپتال لے جائی گئیں ۔ مگر ڈاکٹروں نے دیکھ کر بتایا کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے مر چکی ہیں ۔ انہوں نے خود کشی کیوں کی، اس کی وجہ خبر میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : Padma committed suicide after hearing that the family has lost a case in the Supreme Court to retain their flat. پدما نے یہ خبر سننے کے بعد خود کشی کر لی کہ ان کا خاندان اپنے فلیٹ کو قبضہ میں رکھنے کا کیس سپریم کورٹ میں ہار گیا ہے ( ہندوستان ٹائمس ، ٹائمس آف انڈیا 17 نومبر 1984) 1977ء میں جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم ہوئے۔ وزارت عظمیٰ کی ڈھائی سالہ مدت میں ان کے صاحبزادے کانتی لال ڈیسائی نے کئی معاملات کیے۔ ان میں سے ایک مذکورہ فلیٹ بھی تھا۔ میرین ڈرایئو (بمبئی) میں ایک بڑی بلڈنگ ہے جس کا نام اوشیانا (Oceana) ہے۔ اس کی پانچویں منزل پر یہ فلیٹ تھا۔ جنتا حکومت کے خاتمہ کے بعد عدالت میں یہ کیس چلا کہ مسٹر کانتی لال ڈیسائی نے یہ فلیٹ غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔ عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ، مسز پدما ڈیسائی کو اس فیصلہ کی خبر بذریعہ ٹیلی فون ملی ۔ اس کے بعد انہوں نے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ خاتون نے سمجھا کہ وہ خود کشی کر کے ہمیشہ کے لیے عدالت کے فیصلہ سے نجات حاصل کر رہی ہیں ۔ لیکن اگر انہیں معلوم ہوتا کہ وہ خود کشی کر کے اپنے آپ کوز یاد ہ بڑی عدالت میں پہنچارہی ہیں جہاں اس قسم کے کسی اقدام کا موقع ان کے لیے باقی نہیں رہے گا ، تو ان کا فیصلہ بالکل مختلف ہوتا۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے۔ وہ فوری طور پر ایک سخت اقدام کر بیٹھتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو کبھی ایسا نہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader