Urdu book · کتابِ زندگی

سفریات

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر حیات جیو میٹری کے اصولوں میں سے ایک مشہور اصول یہ ہے کہ دو نقطوں کے درمیان قریب ترین فاصلہ سیدھی لکیر کا ہوتا ہے: A straight line is the shortest distance between two points. یہ بات روشنی کے سفر کے لیے نہایت درست ہے۔ کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ روشنی ہمیشہ خط مستقیم (سیدھی لکیر) کے اصول پر سفر کرتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس اصول کو انسانی زندگی کے سفر کے لیے استعمال کرنے لگے تو اس کا سفر صرف بھٹکاؤ کے ہم معنی بن کر رہ جائے گا۔ اگر آپ اپنے گھر سے نکلیں اور یہ چاہیں کہ آخری منزل تک بالکل خط مستقیم پر سفر کریں تو ایسا کرنے کی صورت میں کہیں آپ کسی کھڈ میں جا گریں گے۔ کہیں کسی پہاڑ سے ٹکرا جائیں گے۔ کہیں دریا کی موجیں آپ کے سفر کو موت کا سفر بنا دیں گی۔ اس لیے کوئی بھی آنکھ والا آدمی ایسا نہیں کرتا کہ وہ خط مستقیم کے اصول پر اپنا سفر جاری کر دے۔ ہر آنکھ والا آدمی مقامات سفر کی رعایت سے اپنے سفر کا رخ متعین کرتا ہے۔ وہ جیو میٹری کے اصولوں کے تحت کبھی اپنے سفر کا راستہ نہیں بناتا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ساری دنیا میں مفروضہ دشمنان اسلام کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے سفر حیات کے لیے اٹھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے راستے میں دریا اور پہاڑ کی مانند کچھ قومیں حائل ہیں۔ وہ فوراً ان قوموں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ جو موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ گویا خط مستقیم میں سفر کرنے کی کوشش ہے۔ مگر ایسی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس قسم کی سرگر میاں صرف موت کی سرگرمیاں ہیں۔ وہ ہرگز زندگی کی سرگرمیاں نہیں۔ زندگی کا سفر جیو میٹری کے اصولوں پر طے نہیں ہوتا۔ وہ حالات کی موافقت اور ناموافقت کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ سفر حیات کا حقیقت پسندانہ منصوبہ وہی ہے اور وہی منصوبہ اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے جس میں خارجی حالات کی پوری رعایت شامل ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page