غصہ کا انجام
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
غصہ کا انجام دہلی میں قرول باغ کے علاقہ میں اجمل خاں روڈ ہے۔ یہاں ایک ساتھ جوتے کی دو دکانیں تھیں ۔ ایک دکان کے مالک کا نام سریندر کمار(35 سال) ہے اور دوسری دکان کے مالک کا نام بلراج اروڑا (45 سال)۔ ایک ہفتہ پہلے سریندر کمار کی دکان سے ایک شخص نے ایک جوڑا جوتا خریدا۔ دکاندار نے اس کی قیمت 180 روپے حاصل کی ۔گاہک باہر نکلا تو دوسرے دکاندار بلراج اروڑا نے اس کو آواز دے کر بلایا۔ اس کا جوتا دیکھ کر پوچھا کہ اس کو تم نے کتنی قیمت میں خریدا۔ اس نے بتایا کہ 180 روپے ہیں۔ بلراج اروڑا نے اسی قسم کا جوتا اپنی دکان سے نکال کر دکھایا اور کہا کہ دیکھو، یہ وہی جوتا ہے اور یہ میں تم کو صرف 135 روپے میں دے سکتا ہوں (دی پائینیر 14 اکتوبر 1992ء) گاہک غصہ ہو گیا۔ وہ جوتا لے کر دوبارہ سریندر کمار کے یہاں آیا اور کہا کہ تم نے قیمت زیادہ لی ہے۔ مجھ کو 45 روپے واپس کرو۔ اس پر سریندر کمار بگڑ گیا اور پڑوس کی دکان پر جا کر بلراج اروڑا کو ڈانٹنے لگا۔ کچھ لوگوں نے درمیان میں پڑ کر فوری طور پر دونوں کو اپنی اپنی دکان میں واپس بھیج دیا۔ مگر غصہ بدستور باقی رہا۔ یہاں تک کہ ایک ہفتہ بعد 13 اکتوبر 1992 ء کو سریندر کمار نے بلراج اروڑا سے تیز تیز باتیں کیں، اور آخر کار جیب سے ریوالور (32 bore Smith and Wesson) نکالا اور ایک کے بعد ایک چھ گولیاں اس کے اوپر خالی کر دیں۔ بلراج اروڑا کو فوراً لوہیا ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔ اب قاتل کا معاملہ عدالت میں ہے۔ اب یا تو مقتول کی طرح قاتل کو بھی پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ یا قاتل لاکھوں روپیہ خرچ کر کے مقدمہ کو اپنے موافق بنائے اور عدالت سے رہائی کا فیصلہ حاصل کر لے ۔ ایک صورت اگر قاتل کے لیے جسمانی موت ہے تو دوسری صورت اس کے لیے مالی موت۔ قاتل اگر غصہ اور انتقام سے مغلوب نہ ہوتا تو بہت آسانی کے ساتھ وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس کے لیے زیادہ بہتر صورت یہ ہے کہ وہ مذکورہ گاہک کو 45 روپیہ ادا کر کے اسے رخصت کر دے اور پھر جہاں تک پڑوسی دکاندار کا مسئلہ ہے، اس کو تجارتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader