Urdu book · منصوبہ بند عمل

قرآن کی رہنمائی

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

راستۂ صرف یہ تھا کہ اگر اس کا پہلا منصوبہ کام (work) نہ کرے تو وہ کسی غیر متعلق مشغولیت میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ وہ صرف ایک کام کرے ــــ حالات کا از سر نو جائزہ لینا، اور اپنے عمل کو نئے منصوبے کے تحت دوبارہ مرتب کرنا۔ یہ واقعہ انسانی تاریخ کے آغاز میں پیش آیا۔ اس طرح خالق نے انسان کو یہ سبق دیا کہ دنیا کے حالات میں بار بار ایسا ہوگا کہ تم کسی نہ کسی سبب سے پہلے موقع (1st chance) کو کھو دو گے۔ اس وقت تمھیں منفی سوچ میں مبتلا نہیں ہونا ہے، بلکہ حاصل شدہ تجربے کی روشنی میں تم کو اپنے کام کی ری پلاننگ (re-planning) کرنا ہے۔ یہی تمھارے لیے اس دنیا میں کامیابی کا راستہ ہے۔ انسان کو موجودہ دنیا میں مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اس بنا پر یہاں انسان کے لیے حالات ہمیشہ موافق نہیں رہتے۔ اس دنیا میں انسان کو ناموافق حالات میں راستہ بناتے ہوئے اپنا سفر کرنا ہے۔ یہ اصول سب کے لیے ہے۔ خواہ وہ مذہبی ہو یا سیکولر، وہ طاقت ور ہو یا کمزور۔ یہ حالات ہمیشہ ہر شخص، اور ہر گروہ کے لیے پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ وہ کسی اور کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرے۔ شکایت اور احتجاج کا طریقہ اس دنیا میں صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی جب یہ دیکھے کہ اس کا پہلا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا تو وہ دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار دینے میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ خود اپنے حالات کا بے لاگ اندازہ کرتے ہوئے اپنے عمل کے لیے نیا منصوبہ بنائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page