Urdu book · منصوبہ بند عمل

منصوبہ بند عمل

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل ہو گیا اور مکہ کے سردار آپ کے پاس لائے گئے۔ یہ لوگ بین الاقوامی اصطلاح کے مطابق جنگی مجرمیں (prisoners of war) تھے۔ مگر آپ نے ان کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، بلکہ یہ کہہ کر سب کو چھوڑ دیا کہ ”میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا: تم پر کوئی الزام نہیں ، اللہ تم کو معاف فرمائے، اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ حرم سے نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، پس وہ اسلام میں داخل ہو گئے“ (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18275)۔ قدیم مکہ کے سردار یہ جانتے تھے کہ ان کا کیس ظلم کا کیس ہے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں میں ندامت کا جذبہ فطری طور پر پیدا ہو گیا، اور وہ پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ان سے انتقام کا معاملہ کرتے تو یقیناً ان کے اندر جوابی انتقام کا ذہن پیدا ہوتا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان انتقام در انتقام (chain reaction) کا ماحول قائم ہو جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قانون اسباب کے مطابق پیغمبر اسلام کا پر امن مشن اپنے پہلے ہی تجربے میں غیر ضروری مشکلات کا شکار ہو جاتا۔ مگر اس اعلیٰ سلوک کی بنا پر پیغمبر کا مشن بلا توقف (non-stop) جاری رہا۔ حدیبیہ کا منصوبہ رسول اور اصحاب رسول نے نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ دیا، اور مدینہ کو اپنا مرکز عمل بنا لیا۔ لیکن مکہ کے سرداروں کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اب انھوں نے یہ کوشش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page