متعلق اور غیر متعلق میں فرق کرنا
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل اگرچہ بظاہر حالات کا نتیجہ تھا، لیکن عملاً وہ وہی چیز بن گیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی بے فائدہ جنگ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس موضوع پر برٹش مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1930-1864) نے گہری تحقیق کی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد انھوں نے ایک کتاب (The Preaching of Islam) لکھی، جو 388 صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی بار 1896 میں چھپی۔ پروفیسر آرنلڈ نے اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح حالات کے دباؤ کے تحت اس وقت کے مسلمانوں میں عملاً ایک نیا ذہن ابھرا۔ یہ مسلح جنگ کے بجائے پر امن دعوت کا ذہن تھا۔ پر امن دعوت کا کام بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان ہونے لگا۔ جو آخر کار اس درجے تک پہنچا کہ منگولوں (تاتاریوں) کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فلپ کے ہٹی (Philip K Hitti) نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے: The religion of the Moslems had conquered where their arms had failed. (1970, p. 488) پروفیسر ہٹی کی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ـــ مسلمانوں کی پہلی پلاننگ جہاں نا کام ہو گئی تھی، اس کی دوسری پلاننگ نے وہاں کامیابی حاصل کر لی۔ یہ دوسرا پراسس اس واقعہ سے شروع ہوا جس کو پروفیسر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader