بابری مسجد کا سبق
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مسلم قیادت، باریش قیادت اور بے ریش قیادت، دونوں نے متفقہ طور پر اس کو نا منظور کر دیا، اور وہ اس مطالبے پر مصر رہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ وہیں بنایا جائے، جہاں وہ پہلے تھی ۔ یہ مطالبہ جدید حالات کے اعتبار سے قطعی طور پر ناقابلِ عمل تھا۔ چنانچہ تقریباً 25 سال گزر گئے، اور مسلم جانب سے مسلسل کوشش کے باوجود ابھی تک یہ معاملہ غیر حل شدہ حال میں پڑا ہوا ہے۔ اگر مسلم رہنماؤں کو ری پلاننگ کی اہمیت معلوم ہوتی تو وہ فوراً ری لوکیشن کی تجویز کو مان لیتے، اور اب تک وہاں کسی قریبی علاقے میں دوبارہ بابری مسجد کے نام پر ایک اسلامک سینٹر بن چکا ہوتا۔ مسجد کو ری لوکیٹ کرنے کا طریقہ عالم عرب میں عام طور پر اختیار کیا جا چکا ہے۔ پھر انڈیا کے مسلم رہنماؤں کے لیے یہ کیوں قابل قبول نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عرب دنیا میں کمپلشن (compulsion) کی بنا پر کوئی دوسرا آپشن (option) موجود نہ تھا، جب کہ انڈیا میں آزادی کی بنا پر کوئی جبر موجود نہ تھا، اور مسلم رہنماؤں کو شعوری طور پر یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ری پلاننگ بھی اسلام کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ اس معاملے میں خود پیغمبر اسلام کے زمانے کی ایک رہنما مثال موجود تھی۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی نبوت سے پہلے قدیم مکہ میں شدید بارش ہوئی، اور اس بنا پر کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت قدیم مکہ کے مشرک سرداروں نے کعبہ کی عمارت از سرِ نو بنائی۔ مگر کسی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا کہ کعبہ کے رقبہ کے ایک تہائی حصہ کو غیر مسقّف حالت میں چھوڑ دیا، اور بقیہ حصہ میں کعبہ کی موجودہ عمارت بنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader