قرآن کی رہنمائی
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانے میں صلح حدیبیہ جیسے حالات زیادہ پیمانے پر وقوع میں آگئے ہیں۔ قدیم زمانے میں جو مواقع محدود طور پر دس سالہ معاہدہ کے ذریعہ حاصل ہوئے تھے، اب وہ یونیورسل نارم (universal norm) بن چکے ہیں۔ اب وہ مواقع خود عالمی حالات کے ذریعہ پیدا ہو چکے ہیں۔ اب اس کی ضرورت نہیں ہے کہ گفت و شنید کے ذریعہ کوئی حدیبیہ جیسا متعین معاہدہ کیا جائے۔ اب وہ تمام چیزیں مستقل طور پر عملاً حاصل ہو چکی ہیں، جو قدیم زمانے میں دس سالہ معاہدہ کے ذریعہ محدود طور پر حاصل ہوئے تھے۔ معاہدہ حدیبیہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ اہلِ اسلام کو آزادانہ طور پر اپنا پر امن دعوتی مشن جاری کرنے کا موقع مل جائے۔ اب اقوام متحدہ (UNO) میں تمام قوموں کے مشترک معاہدہ کے تحت ہر قسم کی آزادی کا حق حاصل ہو چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان تشدد کو چھوڑ دیں، اور پرامن طریقہ کار کے ذریعہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ اب کسی قوم کو اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ پچھلے زمانے میں جو کام سیاسی اقتدار کے ذریعہ ہوتا تھا، اب وہ تنظیم (organization) کے ذریعہ انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے فوج کشی کرنی پڑتی تھی، اب وہ کام کمیونی کیشن کے ذریعہ انجام دنیا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے کسی بادشاہ کا تخت چھیننا پڑتا تھا، اب وہ سب کچھ یونیورسل نارم کے تحت پرامن طریقہ کار کے ذریعہ انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے اپنا سیاسی رقبہ (political area) بڑھانا پڑتا تھا، اب اس کو ایک کمپیوٹرائزڈ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader