مقصدِ حیات
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت اور پیسہ کتنا ہی زیادہ برباد ہو جائے ۔ ٹسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر چیز میں اسراف (waste) سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ مثلاً خرچ میں اسراف، پانی میں اسراف، بولنے میں اسراف، وغیرہ۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اسراف کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دے گا۔ ٹسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر معاملے میں اپنے آپ کو اخلاقی قدروں کا پابند سمجھے گا۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے لیے ساری اہمیت اپنے ذاتی انٹرسٹ کی ہوگی، نہ کہ کسی برتر اخلاقی معیار کی۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس معاملے میں ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ مختلف احوال کے درمیان آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پرورش پا رہی ہے۔ ربانی شخصیت، یا غیر ربانی شخصیت۔ موجودہ دنیا میں آدمی جس طرح اپنے جسمانی وجود کے لیے مادی غذا حاصل کرتا ہے، اسی طرح اپنے روحانی وجود کے لیے بھی اس کو مسلسل روحانی غذا (spiritual food) درکار ہوتی ہے۔ یہی روحانی غذا اس کے اندر ربانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader