زندگی کا مقصد
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ دنیا کو صرف انجوائے منٹ کی جگہ سمجھیں، وہ آخر کار اس بھیانک نتیجے سے دوچار ہوں گے کہ اُن کے لیے آخرت کی ابدی دنیا میں محرومی اور حسرت کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہ ہوگا۔ زندگی کا مقصد 11 مارچ 2006 کو شام کی فلائٹ سے میں حیدر آباد سے دہلی آرہا تھا۔ میرے ساتھ سی پی ایس ٹیم کے کئی اور افراد شامل تھے۔ اس جہاز میں ایک خاتون نیہا بٹوارا (Neha Batwara) بھی سفر کر رہی تھیں۔ ہماری ٹیم کے لوگ جہاز کے اندر مسافروں کے درمیان دعوت ورک کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مزنیہا سے بھی بات کی اور انھیں دعوتی پمفلٹ دیے۔ یہ خاتون دہلی ائر پورٹ پر اتر کر اپنے وطن آلور چلی گئیں۔ بعد کو حیدر آباد سے ان کا ایک خط مورخہ 28 مارچ بذریعہ ای میل موصول ہوا۔ وہ خط حسب ذیل تھا: Respected Maulana Wahiduddin Khan, I am Neha, working in an MNC for some people, it cannot be better than to get a job in top

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader