Urdu book · مقصدِ حیات

زندگی کا مقصد

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

خود انسان کا اپنا تجربہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ ہر انسان کا یہ مسئلہ ہے کہ اس کو پیاس لگتی ہے۔ وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ مگر یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر انسان اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ پانی کے سوا کسی اور چیز سے وہ اپنی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان کو بھوک لگتی ہے۔ بھوک کے معاملے میں بھی انسان یہی کرتا ہے کہ وہ فطرت کی فراہم کردہ غذا کے ذریعے اپنی بھوک مٹائے۔ ہر انسان کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہر انسان آکسیجن لینے کے لیے اُسی نظام کو استعمال کرتا ہے جو اس کے باہر فطرت نے قائم کیا ہے۔ یہی تمام دوسری ضرورتوں کا معاملہ ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ مقصدِ حیات کا بھی ہے۔ مقصد حیات کے معاملے میں بھی انسان کو اپنے خالق کے تخلیقی پلان (creation plan) کو جاننا ہے۔ اس معاملے میں کوئی دوسرا متبادل، انسان کے لیے نہیں۔ قرآن خالق فطرت کی کتاب ہے۔ قرآن میں اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page