Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اس کی داخلی تلاش کا جواب مل جائے، آدمی اپنی زندگی کی صحیح آئیڈیالوجی کو پالے۔ معرفت کو ایک لفظ میں، داخلی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ کسی انسان کے اندر جب یہ داخلی انقلاب آتا ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے— اس کا سوچنا ، اس کا بولنا ، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک، زندگی کے بارے میں اس کے حوصلے اور آرزوئیں ، معاملات میں اس کا نقطہ نظر (outlook) ، کسی چیز کو لینے اور کسی چیز کو نہ لینے کے بارے میں اس کا معیار، غرض ہر چیز اللہ کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ معرفت کے حصول کے بعد آدمی کی جو شخصیت بنتی ہے، اس کے مختلف مظاہر ہیں۔ انھیں مظاہر میں سے ایک مظہر وہ ہے جس کو عبادت کہا جاتا ہے۔ مسائل کا تعلق انھیں مظاہر سے ہے۔ مظاہر اصلاً داخلی تحریک کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ مسائل کا رول یہ ہے کہ وہ ان مظاہر کے صحیح حدود کو بتائیں۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ معرفت (داخلی اسپرٹ) کے پیدا کرنے پر سب سے زیادہ زور دے۔ یہی اصلاح کا فطری طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر مسائل پر زور دیا جانے لگے تو وہ انتقال تاکید (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا۔ اس طرح کی تبدیلی سے کبھی مطلوبہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ ایسا کرنے سے دین، مسائل پر مبنی دین بن جائے گا، حالاں کہ دین کو معرفت پر مبنی دین ہونا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page