دو انتظامات
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
دو انتظامات انسان کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی عنایات کے ساتھ پیدا کیا۔ یہ عنایتیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں۔ اُن میں سے ایک کو قرآن میں احسنِ تقویم (التین: 4) کہا گیا ہے۔ اور دوسری عنایت کے لیے قرآن کی اس آیت میں اشارہ ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34) یعنی خدا نے تم کو وہ سب کچھ دیا جو تم نے اُس سے مانگا۔ احسنِ تقویم کو قرآن میں دوسری جگہ صورتِ احسن (الزمر: 64) کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو نہایت موزوں جسم دیا گیا ہے۔ انسانی جسم بہت سے آرگن (organs) یا نظامات کا مجموعہ ہے۔ مثلاً دیکھنے کا نظام، سننے کا نظام، سانس لینے کا نظام، بولنے کا نظام، ہضم کا نظام، گردشِ خون کا نظام، حرکت کا نظام، وغیرہ۔ انسان کی عمر جب بڑھتی ہے تو ایک ایک نظام معطّل ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ سارے نظام معطّل ہو جاتے ہیں اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ دوسرا انتظام وہ ہے جو انسانی وجود کے باہر خارجی دنیا میں کیا گیا ہے۔ مثلاً روشنی اور حرارت کا نظام، ہوا کا نظام، آکسیجن کی سپلائی کا نظام، پانی اور بارش کا نظام، زراعت کا نظام، وغیرہ۔ یہ خارجی نظامَات انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ یہ نظامَات اگر جزئی یا کلی طور پر معطّل ہو جائیں تو انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ مذکورہ تقسیم میں دوسرے نظام کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پہلے نظام کو آرگن سپورٹ سسٹم (organ support system) کہا جا سکتا ہے۔ انھیں دونوں انتظامات پر انسان کی زندگی قائم ہے۔ ان دونوں انتظامات کو گہرائی کے ساتھ جاننا، آدمی کے لیے معرفت کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شکر کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے آدمی کے اندر تمام مثبت صفات پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً تواضع، سنجیدگی، اعترافِ حق، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader