گرہن، خدائی معجزہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانے میں گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے توہماتی عقائد قائم تھے۔ مثلاً کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژھا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتا ہے، اس وقت چاند گرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دوربین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار 1609 عیسوی میں دوربین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دوربین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے گئے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے، یہ تمام ترا ایک فلکاتی مظہر ہے۔ وہ صرف اس لئے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہو جاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔ قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious) واقعہ بنا ہوا تھا۔ انسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پر اسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson Eclipse Phenomena in Astronomy (1969) by F. Link Eclipses in the Second Millennium BC (1954) by G. Van Bergh انسانی تاریخ میں گرہن کے تعلق سے تین دور ہیں۔ گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور اسلام کے ذریعہ انسان کے علم میں آیا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد(1608ء) کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader