Urdu book · معرفت قرآن

دور شرک، دورِ الحاد

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

2- چارلس ڈارون (وفات 1882) کا ارتقائی نظریہ بنیادی طور پر انتخاب طبعی (natural selection) کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈارون نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ ارتقا (evolution) کا یہ نظریہ ایک سائنسی نظریہ ہے۔ مگر علمی تعریف (definition) کے مطابق، ارتقا کا نظریہ ہر گز سائنسی نظریہ (scientific theory) نہ تھا، وہ صرف ایک قیاسی نظریہ (speculative theory) کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر وقت کے عمومی ذوق کی بنا پر حیاتیاتی ارتقا کے اس نظریے کو عام مقبولیت حاصل ہو گئی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ حیاتیاتی مظاہر کی توجیہہ کے لیے اب خالق کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں، خالق کے وجود کو مانے بغیر تمام حیاتیاتی مظاہر کی توجیہہ ممکن ہے۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ تھا۔ سائنس کی مزید دریافتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ارتقا کا یہ نظریہ علمی اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔ سائنس کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ فطرت میں کامل درجے کی ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اس دریافت نے علمی طور پر نظریہ ارتقا کا خاتمہ کر دیا ہے۔ کیوں کہ ذہین ڈیزائن ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے، وہ بے شعور قسم کے انتخاب طبعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ 3- سگمنڈ فرائڈ (وفات 1939) کا نظریہ یہ تھا کہ انسان کی ذہنی ترقی اس طرح ممکن ہے کہ اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو بے روک ٹوک پورا کر سکے۔ فرائڈ کے اس نظریے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تصور کے مطابق، حرام و حلال کی پابندیاں ختم ہو گئیں۔ انسان آزاد ہو گیا کہ وہ خود اپنی خواہش کے تحت جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ لیکن بعد کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ فرائڈ کا یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ چناں چہ وہ انسان کی ذہنی ترقی میں مانع ہے، نہ کہ مددگار۔ نفسیات کا جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی ذہنی ترقی چیلنج کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ بے قید آزادی کے ذریعے ۔ مذہب کی عائد کردہ اخلاقی پابندیاں ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس چیلنج کے ذریعے انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح انسان اپنی توانائی کے ضیاع سے بچتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page