معرفت قرآن
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ذکر اشاراتی زبان میں ہے۔ ان مظاہرِ فطرت میں جو معرفت کی بات موجود ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اشارات کی تفصیل معلوم کی جائے۔ یہ تفصیل خود قرآن میں مذکور نہیں، وہ فطرت کے خارجی علم کا سائنسی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتی ہے۔ گویا کہ فطرت کا علم ان آیتوں کو سمجھنے کے لیے ان کی سائنسی تفسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیریکم آیاتھ فتعرفونها میں ضمیر ہا کا مرجع آیات ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ تائیدی معلومات (supporting data) ہیں، جو مستقبل میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ دریافت ہوں گی، اور قرآن کی آیت میں جو چیز اشارے کی زبان میں کہی گئی ہے، اس کو انسان تفصیل کی زبان میں جان لے گا۔ قرآن کی اس آیت میں سیریکم آیاتھ سے مراد قرآنی بیان کا وہ سپورٹنگ ڈیٹا (supporting data) ہے، جو بعد کو دریافت ہوگا، اور فتعرفونها کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی بیان کردہ نشانیوں سے معرفت کے درجے میں واقف ہو جانا۔ مثلاً اس سلسلہ بیان میں اوپر کی آیت میں پہاڑ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے: اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہیں، مگر وہ چل رہے ہیں جیسے بادل چلتے ہیں۔ یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو محکم کیا ہے۔ بیشک وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو (27:88)۔ یہ آیت قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئی۔ اس آیت میں پہاڑوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر وہ پہاڑ زمین پر ساکن نظر آتے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ زمین کے ساتھ چل رہے ہیں، جس طرح تم بادلوں کو چلتے ہوئے دیکھتے ہو۔ یہ ایک فطرت (nature) کا واقعہ ہے۔ لیکن ساتویں صدی میں انسان اس کو نہیں جانتا تھا۔ بعد کو فلکیاتی مطالعے سے معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو زمین کی اپنے محور (axis) پر گردش کرنے سے پیش آتا ہے۔ گویا موجودہ زمانے کی یہ فلکیاتی دریافت قرآن کی آیت کو معرفت کے درجے میں قابل فہم بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader