معرفت کی تاریخ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے: وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (11:37) ۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہی واقعہ جدید تہذیب (modern civilization) کی تشکیل کے معاملہ میں پیش آرہا ہے۔ گویا خالق نے انسان سے یہ کہہ دیا کہ اصنع الحضارة باعيننا و وحينا۔ یعنی تہذیب بناؤ ہماری آنکھوں کے سامنے، اور ہماری وحی کے مطابق۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر سائنسی دریافتیں کسی نہ کسی اتفاق (chance) کے ذریعہ وجود میں آئیں۔ تفصیل کے لیے یکی پیڈیا پر یہ مضمون دیکھا جاسکتا ہے: "Role of Chance in Scientific Discoveries". یہ اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں، بلکہ وہ فرشتوں کے تعاون کی مثالیں ہیں، جو غیر مرئی مدد کے طور پر سائنسدانوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اتفاق کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جس کو سرنڈ پیٹی (Serendipity) کہا جاتا ہے: Serendipity is a happy and unexpected event that apparently occurs due to chance and often appears when we are searching for something else. Serendipity...happens in our daily lives and has been responsible for many innovations and important advances in science and technology. تاریخ انسانی کے دوسرے دور میں ایک نئی دنیا بنائی جائے گی۔ یہ دنیا، اسی زمین و آسمان کے اندر ہوگی۔ لیکن اس وقت زمین و آسمان ایک بدلے ہوئے زمین و آسمان ہوں گے (ابراہیم: 48)۔ اسی بدلی ہوئی کائنات میں جنت واقع ہوگی۔ اس جنت کا کیمپس اتنا بڑا ہوگا جتنے بڑے موجودہ زمین و آسمان (آل عمران: 143) ہیں۔ اس اعلیٰ جنت کا انتظام دوبارہ فرشتے کریں گے۔ انسان کے لیے اس جنت میں ہر قسم کی مطلوب چیزیں موجود ہیں گی (فصلت: 31)۔ جنت کی یہی وہ معیاری دنیا ہے جو منتخب لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ بائبل میں ان کے لیے صادقین (righteous) کا لفظ آیا ہے، اور قرآن میں اسی کا ہم معنی صالحین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہاں وہ اعلیٰ معرفت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ انسان کے ساتھ تخلیق کا یہ معاملہ بیحد نازک معاملہ تھا۔ یہاں ضروری تھا کہ انسان کو صحیح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader