Urdu book · مسائلِ اجتہاد

عقیدہ خدا اور سائنس

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔ اگر اس فاصلہ میں تبدیلی آجاۓ تو اس کے مہلک نتائج پیدا ہوں گے۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر 20 کروڑ میل دور ہو جاۓ تو زمین پر اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ پانی، حیاتیات، حیوانات اور انسان سب منجممد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر 5 کروڑ میل ہو جاۓ تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں بشمول انسان جل کر ختم ہو جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود ناممکن ہو جاتا۔ نامعلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثنا ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جب کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقاے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو۔ یہ استثنا بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی۔ بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہوتیں، نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔ ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک بامعنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم (size) کو لیجیے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً 25 ہزار میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد با معنی ہے۔ چنانچہ یہ حجم اگر 50 ہزار میل ہوتا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان (dwarf) دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس، اگر زمین کا حجم گھٹ کر 12

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page